Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پولیس چھاپوں کے خلاف تحریک انصاف کی سندھ ہائیکورٹ میں درخواست، حکومت کو نوٹس

عدالت نے تحریک انصاف کی درخواست پر فریقین سے 8 جون کو جواب طلب کیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان تحریک انصاف صوبہ سندھ کی قیادت نے گرفتاریوں کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے جس پر عدالت نے متعقلہ حکام کو نوٹس جاری کیے۔
بدھ کو اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر عدالت نے سندھ حکومت، محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ، اینٹی کرپشن اور دیگر کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
عدالت نے فریقین سے 8 جون کو جواب طلب کیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے وکیل سے پوچھا کہ درخواست گزار اس وقت کہاں ہیں؟ 
اپوزیشن لیڈر کے وکیل ملک الطاف جاوید نے عدالت کو جواب دیا کہ حلیم عادل شیخ اس وقت اسلام آباد میں ہیں۔ ایئرپورٹ سے لے کر گھر تک ہر جگہ حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں لگا دی گئی ہیں۔ 
حلیم عادل شیخ  کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے گھر چھاپے مارے جارہے ہیں، ہراساں کیا جارہا ہے۔ ’12 جون کو صوبائی اسمبلی میں بجٹ سیشن شروع ہونے والا ہے، اپوزیشن لیڈر کو مباحثے سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت حلیم عادل شیخ کو ہر حال میں گرفتار کرنا چاہتی ہے۔‘
دوسری جانب رات گئے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماوں کے گھروں پر گرفتاری کے لیے چھاپے مارے۔
پولیس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماوں پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ پولیس درج مقدمات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ کسی سیاسی جماعت یا کسی رہنما کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا۔ 
ادھر پی ٹی آئی رہنماوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت انہیں انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ’سندھ پولیس صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے نہ کہ سیاسی ورکرز کے گھروں پر چھاپے مار کر اپنے آقاوں کو خوش کرے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے موقع پر کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج مظاہرے اور دھرنے دیے گئے تھے۔ احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی اور ان پرتشدد واقعات میں ایک پولیس وین نذر آتش کی گئی تھی جبکہ 4 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سمیت کارکنوں کو نامزد کیا تھا. 

شیئر: