Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کا عمل معطل ہونے کا ذمہ دار امریکہ ہے: چین

نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد چین نے امریکہ ساتھ تعاون کا سلسلہ بند کر دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
چین نے کہا ہے کہ امریکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے لیے ہونے والی کوششوں میں تعطل کا باعث بنا ہے، اسے ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے چینی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سفارت کاری کو سیاسی اور سرحدوں کی کشیدگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور یہی چیزیں عمل کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔
200 کے لگ بھگ ممالک کے رہنما مصر کے شہر شرم الشیخ میں اکھٹے ہونے والے ہیں جس میں عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلوں کے حوالے سے بات چیت ہو گی تاہم اس میں شامل دو بڑے ملکوں کے درمیان تناؤ نے ’سی او پی 27‘ کے انعقاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پیرس میں 2015 میں ہونے والے معاہدے پر واشنگٹن اور بیجنگ کے دستخط کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ اس اہم موضوع پر بات آگے بڑھے گی تاہم امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے اگست میں تائیوان کے دورے کے بعد چین نے اس پر بات چیت بند کر دی تھی۔
تائیوان چین کا پڑوسی ملک ہے جس پر چین اپنی ملکیت کا دعوٰی رکھتا ہے جبکہ تائیوان خود کو خودمختار ملک قرار دیتا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’چین اور امریکہ نے اس سے قبل موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر خوشگوار تعلقات وضع کر لیے تھے اور پیر معاہدے کو انجام تک پہنچانے کے لیے مل کر کام کیا، تاہم اس کو دوطرفہ تعلقات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان سے چین کی خودمختاری کی شدید زک پہنچی اور ہمارے پاس مذاکرات روکنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ ’امریکہ کو اس صورت حال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین نے دوسرے ممالک کے بات چیت کا سلسلہ منقطع نہیں کیا ہے اور ان کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے لیے ہونے مذاکرات کا حصہ بنے گا۔
’چین کی خواہش ہے کہ سی او پی 27 کامیاب ہو اس کے لیے وہ دیگر تمام پارٹیز کے ساتھ رابطہ میں ہے اور تعاون کرے گا۔‘
ماہرین سی او پی 27 کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہیں کیونکہ یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے اثرات کے علاوہ امریکہ اور چین کے موجودہ تعلقات نے اس کی کامیابی کے امکان کو مزید کم کر دیا ہے۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ کلائمیٹ اینڈ انرجی پالیسی کے ڈائریکٹر فرینک جوتزو کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور چین کے اتحاد نے اس معاملے کو حل کی طرف لے جانے میں ماضی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔‘
جمعرات کو بیجنگ میں بریفنگ کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ اور چین کے درمیان وہ تعاون اب موجود نہیں اور کے پھر سے شروع ہونے کا امکان بھی دکھائی نہیں دے رہا۔‘

شیئر: