Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’افغان حکام خواتین کی تعلیم سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کریں‘

وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے خواتین کی تعلیم سے متعلق طالبان کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان حکام کو خواتین کی تعلیم کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
جمعرات کو پریس بریفنگ سے خطاب میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن اس معاملے پر واضح ہے، افغان خواتین کو آگے بڑھنے اور اپنے خواب پورے کرنے کے حق سے نہیں روکا جا سکتا۔
خیال رہے کہ منگل کو افغان طالبان کے وزیر برائے اعلٰی تعلیم ندا محمد ندیم نے تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو دستخط شدہ ایک مراسلہ بھیجا تھا جس میں ملک بھر میں خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی عائد کرنے کا کہا تھا۔
مراسلے میں کہا گیا تھا کہ اگلے حکم نامے تک خواتین کی تعلیم معطل رہے گی، جبکہ اس سے پہلے ہی نوعمر لڑکیوں کی ثانوی سکول کی تعلیم پر پابندی ابھی تک برقرار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسلامی نظریے کے تحت تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور خاتون کا موروثی حق ہے، افغان خواتین کو بھی مکمل اور برابر کا حق حاصل ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں حصہ لیں۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے طالبان کے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔
انڈیا کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ  کا کہنا تھا کہ وہاں انتہا پسند قوم پرستوں کے عروج اور ان کی خطے میں توسیع کی حکمت عملی پر پاکستان کو تشویش ہے۔
ترجمان نے کہا کہ انڈیا وادی کشمیر میں شہریوں کو دبانے اور دھمکانے کی پالیسی جاری رکھے ہوئے، رواں ہفتے بھی ضلع شوپیاں میں جعلی مقابلے میں تین کشمیری نوجوانوں کو ہلاک کیا گیا۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو دنیا میں اپنا مقام بنانے کے شاندار عزائم رکھتا ہے، انڈیا بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر کام کرنے سے قاصر رہا ہے جو نئی مراعات حاصل کرنے کے قابل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا خود کو دہشت گردی کا شکار ملک کے طور پر ظاہر کرتا ہے جبکہ وادی کشمیر میں جابرانہ اقدامات کا ذمہ دار ہے  اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں دہشت گرد گروہوں کو سپانسر اور مالی معاونت بھی کرتا ہے۔

شیئر: