Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حافظ نعیم نے کیسے جماعت اسلامی کی واپسی ممکن بنائی؟

مشہور شخصیات نے اپنی اینڈورسمنٹ کے ذریعے جماعت اسلامی کی مہم کی حمایت کی۔ (فوٹو: فیس بک جماعت اسلامی)
کراچی میں جماعت اسلامی کی بلدیاتی انتخابات میں غیر معمولی کامیابی میں جہاں دیگر عوامل ہیں وہاں کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے بھرپور انداز میں غیر روایتی انتخابی مہم نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
کراچی سے جماعت اسلامی کے پاس قومی اسمبلی کی کوئی نشست نہ ہونے کے باجود اتوار کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدواروں نے کئی علاقوں میں میدان مار لیا۔ اس وقت جماعت اسلامی  نشستوں کی تعداد کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی کی کراچی میں کامیابی میں اہم کردار حافظ نعیم الرحمان کا ہے۔ انہوں نے بھرپور انتخابی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ جدید طریقوں سے نوجوان ووٹرز کو راغب کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے گذشتہ کئی ماہ سے کراچی میں انتخابی مہم چلا رکھی تھی اور شہر کے تمام اہم مسائل کے حوالے سے ہر احتجاج میں نظر آتے رہے بلکہ کئی احتجاج منظم کرنے میں انہیں کا کردار رہا۔
کے الیکٹرک کے متاثرین ہو یا امن و امان کی خرابی کے ستائے لوگ یا پھر شہر میں ٹرانسپورٹ یا سیورج کے مسائل کے شکار ووٹرز، جماعت اسلامی کے امیدوار موقع پر نظر آتے اور میڈیا کے ذریعے اپنی موجودگی جتا کر لوگوں کو باور کروانے میں کامیاب رہے کہ وہ ان کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

نوجوان نسل کو متوجہ کرنے کے لیے جدید انداز کی مہم

ایک مذہبی سیاسی جماعت کے طور پر جماعت اسلامی پرجوش ترانوں اور بیینرز کا استعمال تو ہمیشہ سے کرتی آئی ہے مگر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے کئی اداکاروں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز، یوٹیوبرز، کے علاوہ ریپ موسیقی تک کا استعمال کیا تاکہ نوجوان ووٹرز کو متوجہ کیا جا سکے۔
کئی اینکرز اور میڈیا پرسنز سے ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروائے گئے جن میں حافظ نعیم اور جماعت اسلامی کی حمایت اور وکالت کی گئی۔
اور تو اور کئی گلوکاروں اور ٹک ٹاک سٹارز نے اپنے فن کے ذریعے سیاسی بیانیہ آگے بڑھا۔۔
جماعت اسلامی اور حافظ نعیم کے نام والی ٹی شرٹس بھی مارکیٹ میں لائی گئیں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں نے انہیں پہن کر سوشل میڈیا کو متوجہ بھی کیا۔
ٹویٹر پر ایسی ہی تصویر پر ایک صارف نے لکھا کہ ’ٹیم ترازو بہت ایڈوانس ہو گئی ہے۔ ہمارے وقتوں میں تو ہاتھ بھی پردے میں رکھنے کی ہدایت ہوتی تھی۔‘
اسی طرح مشہور شخصیات نے اپنی اینڈورسمنٹ کے ذریعے جماعت اسلامی کی مہم کی حمایت کی۔
 

شیئر: