Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گیس لیکج حادثات میں اضافہ: ’بچے بھی گئے اور محنت کی کمائی کا مکان بھی‘

ملک کے بعض شہروں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے شہری سلینڈر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
’رات گئے اچانک زمین ہلنے لگی اور کوئی بھاری چیز میرے جسم پر آگری، میں ملبے تلے پھنس گیا۔ میں سمجھا کوئی زلزلہ آیا مگر کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ گیس لیکج کی وجہ سے ہمسایہ کے گھر میں دھماکہ ہوا ہے اور اس کی دیوار ہمارے چھت پر آ گری۔‘
یہ کہنا تھا کوئٹہ کے علاقے مسلم اتحاد کالونی کے رہائشی شرف الدین کا، جو اس حادثے میں شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کے چار بچوں کی موت ہو گئی۔ حادثے میں ہمسایہ گھر کے نو بیاہتا جوڑا بھی ہلاک ہو گیا۔ یوں اس ایک ہی حادثے نے چھ افراد کی جان لی۔
کوئٹہ میں گزشتہ 10 دنوں کے دوران 16 افراد گیس لیکج کے باعث ہونے والے حادثات میں جان سے گئے۔ ان میں باپ اور تین بیٹوں سمیت دو خاندانوں کے آٹھ افراد بھی شامل تھے۔ کراچی اور راولپنڈی میں بھی گزشتہ دو دنوں کے دوران ایسے ہی حادثات میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان میں گیس کے گھریلو صارفین کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے جن کے لیے سردیوں میں خود کو گرم رکھنے کے لیے سب سے سستا ذریعہ قدرتی گیس ہے تاہم ہر سال درجنوں افراد اسی گیس سے متعلق واقعات کے ہاتھوں اپنی جانیں بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔
کوئٹہ اور صوبے کے شمالی اور بالائی علاقوں میں دسمبر اور جنوری میں درجہ حرارت اوسطاً منفی تین سے منفی چار رہتا ہے، اس لیے گیس لوگوں کی ضرورت سے بڑھ کر مجبوری بن جاتی ہے  اور گیس سے اموات بھی زیادہ تر انہی مہینوں میں رپورٹ ہوتی ہیں۔

گیس لیکج کے واقعات کیا صرف صارفین کی غفلت کے باعث پیش آرہے ہیں یا پھر گیس کمپنیاں بھی ذمہ دار ہیں؟

اردو نیوز نے متاثرین اور متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔ بلوچستان کے سرکاری حکام اور صارفین حادثات کی وجہ گیس کی کمی اور کمپنی کو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگوں کو سردیوں میں خود کو گرم رکھنے کے لیے جان پر کھیلنا پڑ رہا ہے۔
حادثے میں چاربچے کھونے والے شرف الدین کچے مکان کے ایک تباہ حال کمرے میں بستر پر پڑے ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بچے بھی چلے گئے اور زندگی بھر کی کمائی سے بننا والا مکان بھی تباہ ہوگیا۔ سب کچھ چلا گیا۔‘

25 جنوری کو کوئٹہ میں گیس لیکج کے باعث ایک ہی خاندان کے چار بچوں کی موت ہوئی (فوٹو: ایدھی فاؤنڈیشن)

شرف الدین نے حادثے کی ذمہ داری گیس کمپنی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ دن بھر گیس غائب رہتی ہے۔ کوئٹہ میں کئی ہفتوں سے درجہ حرارت منفی  میں ہے۔ سخت سردی کی وجہ سے کمرے ٹھنڈے رہتے ہیں۔
’گیس کبھی رات 10 بجے اور کبھی 11 بارہ بجے کے بعد آتی ہے۔ اس کے بعد اگلے دن کا کھانا پکایا جاتا ہے اور لوگ رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں تاکہ ہیٹر جلاکر کمروں کو گرم رکھ سکیں۔
ان کے بقول ’گیس کمپنی لوڈ شیڈنگ کا انکار کرتی ہے مگر بجلی کی طرح باقاعدہ غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ گیس کے آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔ لوگ والو کھول کر انتظار کرتے ہیں اس دوران بعض اوقات لوگ بھول جاتے ہیں تو ایسے حادثات رونما ہوجاتے ہیں۔‘
شرف الدین کی تائید کرتے ہوئے علاقے کی کمیٹی کے چیئرمین قربان خان نے کہا کہ ہمارے محلے میں ایک سال کے دوران یہ تیسرا حادثہ ہے۔ اکثر واقعات گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔۔ دن بھر گیس نہیں ہوتی، ہمارے علاقے میں رات کو اس وقت گیس آتی ہے جب باقی علاقوں میں لوگ ہیٹر بجھا کر سو جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ تازہ حادثے میں بھی ایسا ہی ہوا کہ گیس آنے کا پتہ نہیں چلا اور جب بجلی آئی تو سپارک ہوا اور دھماکا ہو گیا۔
25 جنوری کو کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد کلی بادیزئی میں گیس لیکج کے باعث ایک ہی خاندان کے چار بچے جان سے گئے جن میں ثنا اللہ کے تین بہن بھائی بھی شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب گیس کا پریشر اچھا ہوتا ہے تو لوگ کمرے گرم ہونے کے بعد ہیٹر بجھا دیتے ہیں لیکن اب گیس کا پریشر اتنا کم آتا ہے کہ ایک کمرے میں ہیٹر جلایا جائے تو دوسرے میں بند ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق ’اس لیے ایک ہی کمرے میں ہیٹر جلا کر اسے گھر کے زیادہ سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہیں۔ جب حادثہ ہوتا ہے تو اموات بھی اسی وجہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔‘
’ہمارے علاقے کے لوگوں نے تین بار گیس کمپنی کے دفتر کے باہر جا کر احتجاج کیا۔ مسئلہ تو حل نہیں ہوا ہمارا گھر ضرور اجڑ گیا۔‘

رواں برس بھی پاکستانی شہریوں نے گیس کے لوڈشیڈنگ کی شکایت کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

وزیراعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے بھی کوئٹہ میں بڑھتے ہوئے گیس حادثات اور اموات کا ذمہ دار گیس کمپنی کو قرار دیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیراعلٰی نے وفاقی حکومت سے گیس کمپنی کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعلٰی کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان طویل عرصے تک ملک کی گیس کی ضروریات پوری کرتا رہا لیکن آج جب ہمیں گیس کی ضرورت ہے تو گیس دستیاب نہیں۔
اردو نیوز نے بلوچستان اور کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے متعلقہ حکا م سے بار بار رابطہ کیا لیکن سوالات نوٹ کرنے کے باوجود جوابات نہیں دیے گئے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایک سابقہ اہلکار بیان کے مطابق ’بلوچستان میں گیس کی یومیہ طلب 250 سے 260 ملین کیوبک فٹ ہے جبکہ رسد 200 سے 210 ایم ایم سی ایف ڈی کے درمیان ہے۔ کمپنی کی جانب سے پچھلے ماہ بلوچستان ہائیکورٹ کو بتایا گیا تھا کہ سردیوں میں سندھ کے کوٹے سے یومیہ 70 ملین کیوبک فٹ سے زائد گیس بلوچستان کو فراہم کی جاتی ہے۔‘
بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ کا کہنا ہے کہ ’سوئی سے یومیہ 330 ملین کیوبک فٹ گیس نکلتی ہے جبکہ بلوچستان کو یہاں سے صرف 110 ملین کیوبک فٹ کوٹہ ملتا ہے اگر سوئی سے نکلنے والی پوری گیس بلوچستان کو دی جائے تو ہماری ضروریات آسانی سے پوری ہو سکتی ہیں۔‘
بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد گیس سمیت قدرتی وسائل پر پہلا حق متعلقہ صوبے کا ہے لیکن بلوچستان اپنی پیداوار کا صرف 17 فیصد استعمال کرتا ہے اور صوبے کے بیشتر علاقے اب بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔
کوئٹہ کے سابق ناظم محمد اسلم رند نے اردو نیوز کو بتایا کہ حادثات کے ذمہ دار صارفین اور گیس کمپنی دونوں ہیں۔
اسلم رند کے مطابق ’بلوچستان میں گیس چوری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ کمپنی چوری کی روک تھام میں ناکام ہے۔ اس لیے وہ صارفین کو ضرورت کے مطابق گیس فراہم نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ان کے نقصان میں مزید اضافہ ہو گا۔‘
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر میں بھی سالانہ 10 فیصد کمی آ رہی ہے جس کے باعث سوئی نادرن اور سوئی سدرن باقی صوبوں میں لوڈ مینیجمنٹ کے تحت صرف کھانے پکانے کے اوقات میں گیس فراہم کرتی ہیں۔

شیئر: