Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی وزیر دفاع کی برطرفی کے بعد ملک میں مظاہرے پھوٹ پڑے

وزیر دفاع یوآو گیلنٹ لیکوڈ پارٹی کے سینیئر رکن ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے عدالتی نظام میں ترامیم مسترد کرنے کی وجہ سے اتوار کو اچانک اپنے وزیر دفاع کو برطرف کر دیا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عدالتی نظام میں ترامیم نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے اور فوج میں بھی عدم اطمینان کو بڑھا دیا ہے۔
وزیر دفاع کی برطرفی کے بعد ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور ایک مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا۔

اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات کو روکا جائے۔

پیر کو اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے ٹویٹ کیا کہ اسرائیلی عوام کے اتحادی کی خاطر، ذمہ داری کی خاطر، میں آپ سے قانون سازی کا عمل فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘

وزیر دفاع کی برطرفی اس جانب اشارہ ہے کہ نیتن یاہو رواں ہفتے عدالتی نظام میں ترامیم کے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
عدالتی نظام میں ترامیم کے اعلان نے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا تھا۔
وزیر دفاع یوآو گیلنٹ لیکوڈ پارٹی کے پہلے سینیئر رکن ہیں جنہوں نے اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی۔
ایک مختصر سے بیان میں نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وزیراعظم نے گیلنٹ کو برطرف کر دیا ہے۔ بیان کے بعد نیتن یاہو نے ٹویٹ کیا کہ ’ہم سب کو انکار کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔‘
مظاہرے بیرشیبہ، حیفا اور یروشلم میں ہوئے۔ ہزاروں مظاہرین نے نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج کیا۔

وزیر دفاع کی برطرفی کے بعد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وزیر دفاع کی برطرفی کے بعد نیویارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل اصاف ضمیر نے اعلان کیا کہ وہ بطور احتجاج اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں، اور مزید اس حکومت کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔
یوآو گیلنٹ جو ایک سابق سینیئر جنرل تھے، نے اگلے ماہ یوم آزادی کی تعطیلات تک متنازع قانون سازی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی برطرفی کا فیصلہ اس بیان کے بعد سامنے آیا۔
انہوں نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ معاشرے میں تقسیم فوج کے مورال کو نقصان پہنچا رہی ہے اور پورے خطے میں اسرائیل کے دشمنوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
’میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طاقت کا منبع کس طرح ختم ہو رہا ہے۔‘
لیکوڈ پارٹی کے دیگر اراکین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں گیلنٹ کی پیروی کر سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے پبلک ڈپلومیسی کے ویزر گالت دستال اتبریان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے وزیر دفاع کو طلب کیا تھا اور ان کو کہا تھا کہ ’اب وزیراعظم پر ان کا بھروسہ نہیں رہا اس کے لیے ان کو برطرف کر دیا گیا ہے۔‘

گزشتہ کئی ہفتوں سے اسرائیل میں حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

برطرفی کے فوراً بعد وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے ٹویٹ میں کہا کہ ’ریاست اسرائیل کی سکیورٹی ہمیشہ سے میری زندگی کا مشن تھا اور رہے گا۔‘
اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے کہا کہ یوآو گیلنٹ کی برطرفی ’قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے اور تمام عسکری حکام کے انتباہ کو نظر انداز کرتی ہے۔‘
انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’اسرائیل کے وزیراعظم ریاستِ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔‘
حالیہ ہفتوں میں عدالتی نظام میں ترامیم کے حوالے سے اسرائیل کی فوج کے اندر بھی عدم اطمینان اضافہ ہوا ہے جو ملک میں سب سے مقبول اور قابل احترام ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگی ہوابازوں سمیت اسرائیل کی ریزور فوج نے بھی رضاکارانہ ڈیوٹی سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی سخت گیر حکومت کی جانب سے متعارف کیے گئے اقدامات سے سپریم کورٹ کمزور اور عدالتی نگرانی محدود ہو جائے گی اور سیاستدانوں کو مزید اختیارات ملیں گے۔

شیئر: