ایران سے ’مسلسل خطرہ‘، وائٹ ہاؤس نے وارننگز کو سنجیدگی سے نہیں لیا: رپورٹ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ممکنہ ایرانی حملوں کے تاثر کو کم کرتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے انٹیلیجنس ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے پچھلے مہینے امریکہ کے اندر ایران کی ممکنہ کارروائی سے خبردار کیا تھا تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خفیہ رپورٹ سے متعلق دستاویز کے مشاہدے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 مارچ کو ایف بی آئی اور دیگر وفاقی خفیہ اداروں نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی حکومت امریکی فوج، سرکاری اہلکاروں اور عمارتوں کے علاوہ یہودیوں، اسرائیلی اداروں اور امریکہ میں ایران مخالفوں کے لیے ’مسلسل خطرہ‘ ہے۔
تاہم ان انتباہات کے باوجود ایف بی آئی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم سینٹر نے امریکی عوام کے لیے وسیع خطرات کی نشاندہی نہیں کی۔
حالیہ مہینوں کے دوران انٹیلیجنس کی بنیاد پر امریکی سرزمین پر کسی ایرانی حملے کے امکان کو امریکی صدر ٹرمپ نے بھی بہت کم کر کے ظاہر کیا، جس کا اظہار ان کی عوامی سطح پر کی گئی بات چیت میں ہوتا ہے۔
جب 11 مارچ کو ان سے وائٹ ہاؤس کے باہر پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ پر ایران کے حملوں کے حوالے سے فکرمند ہیں؟ تو ان کا جواب میں کہنا تھا کہ ’نہیں، میں فکرمند نہیں ہوں۔‘
ریبپلکن صدر نے رواں ہفتے ایران کے ساتھ تنازع پر بیان بازی کو بڑھاتے ہوئے منگل کے روز کہا تھا کہ ’اگر ایران نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آج رات ایک پوری تہذیب دم توڑ جائے گی۔‘
20 مارچ کی رپورٹ جس کا عنوان ’عوامی تحفظ سے متعلق آگاہی رپورٹ‘ ہے، روئٹرز اور دوسرے اداروں کوئی کئی ہفتے بعد جاری کی گئی، کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس وائٹ ہاؤس نے ریلیز کیے جانے سے روکا تھا۔
اس وقت وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اس امر کو یقینی بنایا جایا جا رہا ہے کہ کسی بھی انفارمیشن کو جاری کرنے سے قبل درست طور پر جانچا جائے۔
ترجمان ابیگیل جیکسن نے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ کی پوری انتظامیہ ملک اور امریکی عوام کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہے، جیسا کہ ہمیشہ سے کیا جاتا رہا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’میڈیا کے اداروں کو قانون کے نفاذ سے متعلق ایک میمورنڈم پر رپورٹنگ کر کے غیرذمہ دارانہ طور پر خوف پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، جس کے سیاق وسباق میں خلا ہو سکتا ہے۔‘
اس رپورٹ کے حوالے سے ایف بی آئی اور این سی ٹی سی کی جانب سے فوری طور پر تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کو ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے ترجمان علی کریمی مغام نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
پچھلے مہینے روئٹرز اور اپسوس کی جانب سے ایک عوامی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر امریکی جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔ دو تہائی عوام کا کہنا تھا امریکہ کو اس جنگ میں اپنی موجودگی کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے سکیورٹی اداروں نے حالیہ برسوں کے دوران امریکی شہریوں کو اغوا اور قتل کرنے کی کوششیں کیں جبکہ امریکہ کے لیے ہونے والی سازشوں میں زیادہ تر اسلحہ شامل رہا جبکہ دوسرے طریقوں میں ’چھری سے مارنا، گاڑیوں کے ٹکر مارنا، بم دھماکے، زہر دینا، گلا دبانا اور آتش زنی‘ شامل ہے۔‘