لبنان بھر میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر ’سب سے بڑی مربوط‘ کارروائیاں کیں: اسرائیل
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف جنگ میں لڑائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے لبنان میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ کے خلاف اپنی سب سے بڑی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ملک بھر میں شہری علاقوں میں موجود تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لبنانی کی سرکاری کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے بیروت پر متعدد حملے کیے، جن میں دارالحکومت کے کئی علاقے، خاص طور پر اس کے جنوبی مضافات شامل ہیں۔
اے ایف پی ٹی وی کی براہِ راست فوٹیج میں بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ اے ایف پی کے صحافیوں نے سڑکوں پر خوف و ہراس کے مناظر کی اطلاع دی۔
ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے اس تازہ بمباری کو ملک میں اسرائیل کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد کی سب سے شدید کارروائی قرار دیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے بدھ کو جنوبی لبنان پر دوبارہ حملے شروع کیے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی شہر صور کے قریب ایک عمارت کے لیے انخلا کی وارننگ بھی جاری کی۔
لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ، جس نے 2 مارچ کو اسرائیل پر حملہ کر کے لبنان کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل کیا، نے رات ایک بجے کے بعد سے کسی کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
تین لبنانی ذرائع، جو اس گروہ کے قریب ہیں، نے روئٹرز کو بتایا کہ حزب اللہ نے بدھ کی ابتدائی ساعتوں میں شمالی اسرائیل اور لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ روک دی، جو امریکہ اور ایران کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کا ملک بھی اس علاقائی معاہدے میں شامل ہوگا۔
ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق عون نے کہا کہ بیروت ’مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ علاقائی امن میں لبنان کو مستحکم اور دیرپا انداز میں شامل کیا جا سکے۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف جنگ میں لڑائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے بدھ کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ لبنان کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے اور مطالبہ کیا کہ لبنان کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے۔
لبنان کی فوج نے بدھ کے روز شہریوں کو ملک کے جنوبی علاقوں میں واپس جانے سے خبردار کیا، جہاں اسرائیلی فوج اب بھی حملے کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں حزب اللہ کے ساتھ اس کا تنازع شامل نہیں۔
