اسرائیل نے فلسطینی علاقے غزہ کے سب سے بڑے شہر کو خطرناک لڑائی والا زون قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں تحویل میں لی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعے کو اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں ’ابتدائی مرحلے‘ کی فوجی کارروائی کا آغاز کیا جس کی بین الاقوامی طور پر مذمت جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کے لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے اعلان سے رہائشیوں کو خوراک اور دیگر امدادی سامان حاصل کرنے میں مشکلات ہوں گی۔
مزید پڑھیں
-
غزہ کے لیے سعودی عرب کی امداد، فلسطینی شہریوں کا شکریہNode ID: 893902
امدادی گروپوں اور شہریوں کو پناہ دینے والے ایک چرچ نے کہا ہے کہ وہ بھوکے اور بے گھر افراد کو اس حال میں نہیں چھوڑیں گے جن کا مکمل انحصار اُن پر ہے۔
اسرائیل کی جانب سے پہلی بار غزہ شہر میں اپنی جارحیت کو وسیع کرنے کے منصوبوں کا اعلان چند ہفتے قبل کیا گیا تھا۔ علاقے میں لاکھوں افراد نے قحط کا شکار ہونے کے دوران پناہ لی ہوئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے شہر کے مضافات میں قائم آبادیوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
ایک طرف اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور امدادی گروپوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائی بڑھانے کے فیصلے کی مذمت کی، تو دوسری طرف غزہ شہر کے رہائشیون نے کہا کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑا کیونکہ حملے پہلے ہی شدت اختیار کر چکے تھے اور ان تک پہنچنے والی امداد ناکافی تھی۔
محمد ابوالہادی نے کہا کہ امدادی سامان کی ترسیل میں معطلی سے کوئی فرق نہیں پڑا۔
انہوں نے غزہ سٹی سے بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ ’قتل عام کبھی نہیں رکا، یہاں تک کہ انسانی ہمدردی کے تحت جنگ میں وقفوں کے دوران بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔‘

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے لڑائی میں وقفے کے وقت پر عمل کو معطل کیا ہے۔ قبل ازیں فوج نے صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک خوراک اور امدادی سامان کو غزہ شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی اور اس دوران فوجی کارروائی نہیں کی جاتی تھی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کی کچھ اہم آبادیوں پر حملوں کی اطلاع دینے اور دسیوں ہزار ریزرو اہلکاروں کو بلانے کے فیصلے جنگ میں شدت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچے آدارائے نے کہا کہ جب تک ہم تمام مغوی یرغمالیوں کو واپس نہیں لاتے اور حماس کو ختم نہیں کر دیتے حملے تیز کریں گے۔