آبنائے باسفورس پر لگ بھگ دو صدیوں سے تیرتی سفید فیری کشتیاں ترکیہ کے دارالحکومت استنبول کے یورپی ساحلوں اور ایشیائی جانب سفر کرنے والے بے شمار مسافروں کے لیے مثالی رابطہ فراہم کرتی آئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے اس بڑے شہر میں موجود پانیوں پر کئی پُلوں اور زیرِسمندر میٹرولائن کے باوجود یہ فیری کشتیاں اب بھی بہت مقبول ہیں۔
ان فیری کشتیوں کی سب سے بڑی آپریٹر کمپنی ’شہیر ہاتلر‘ ہر سال کم از کم چار کروڑ مسافروں کو لے کر جاتی ہے۔
استنبول کی فیری کشتیوں کی تاریخ کے ماہر عدیل بالی باسفورس کے جنوبی داخلی راستے پر واقع ایک چھوٹے پتھریلے جزیرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’استنبول کا کوئی بھی منظر مائدن ٹاور، ایک فیری اور ایک بگلے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔‘
مزید پڑھیں
-
بریدہ کھجور فیسٹیول کاروبار اور سیاحت کا اہم مرکز بن رہا ہےNode ID: 893697
انہوں نے کہا کہ ’یہ دنیا کے چند شہروں میں سے ایک ہے جسے سمندر کے ذریعے عبور کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہاں فیری کشتیاں ناگزیر ہیں۔‘
سنہ1843 میں باسفورس کے کنارے واقع سادہ ماہی گیری کے دیہات مقبول تفریحی مقامات میں بدل دیے گئے جہاں بعد میں لکڑی کے محلات تعمیر ہوئے جو پانی کے کنارے تجارت کو فروغ کا باعث بنے۔
سنہ 1973 میں پہلا باسفورس پل کھلنے تک استنبول کے ایشیائی اور یورپی حصوں کے درمیان سفر کا واحد ذریعہ کشتی تھی اور آج بھی یہ تجربہ شہر کی دلکشی کا ایک لازمی جزو ہے۔
شہیر ہاتلر یا ’شہر خطوط‘ کے 30 جہازوں میں سے بڑے جہاز ’پاساباہچے‘ کے کپتان اکرم اوزچلیک نے کہا کہ ’پانیوں پر اب بہت زیادہ ٹریفک ہے۔‘
انہوں نے ان ٹینکرز، کنٹینرز اور مال بردار جہازوں کا حوالہ دیا جو بحیرۂ اسود کو بحیرہ ایجیئن سے بحیرۂ مرمرہ اور داردانیلس کے ذریعے جوڑنے والی آبنائے سے گزرتے ہیں۔
اس سمندری راستے سے نجی کمپنیوں کے کروز شپس اور کشتیاں بھی گزرتی ہیں جو اسے دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک بناتی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں اس گزرگاہ سے 41 ہزار 300 کشتیاں گزریں جن کی روزانہ اوسط تعداد 113 بنتی ہے۔
اکرم اوزچلیک نے کہا کہ ’آبنائے باسفورس کے پانی اس وقت کافی پیچیدہ روپ دھار لیتے جب جنوبی مغربی ہوائیں چلتی ہیں اور پھر لہریں تین تین میٹر تک اوپر اٹھنے لگتی ہیں۔‘
ایک ماہی گیر خاندان میں جنم لینے والے کپتان اکرم اوزچلیک نے بتایا کہ ان کا بچپن کا خواب تھا کہ وہ ایک دن سفید ٹوپی اور وردی پہنے ہوئے کپتان بنیں۔

’استبول کے دل میں ایک کپتان ہونا بہت بڑے فخر کی بات ہے۔‘
’پاساباہچے‘ نامی سب سے نمایاں یہ جہاز کچھ عرصہ قبل متروک قرار دیے جانے سے بچا ہے اور پھر دو برس تک اس کی مرمت ہوتی رہی۔
بعدازاں سنہ 2022 میں یہ اپنی 70ویں سالگرہ پر یہ فیری سمندر میں واپس اتاری گئی۔
36 سالہ فرسٹ آفیسر سیمیح آکسوئے نے ’پاساباہچے‘ سے متعلق اعتراف کیا کہ دوسروں کے مقابلے میں اسے چلانا زیادہ مشکل ہے۔ یہ بھاری ہے اور اسے چلاتے ہوئے موڑ کاٹنا پیچیدہ ہوتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مشہور فیری کو دنیا کی کسی چیز کے بدلے نہیں چھوڑنا چاہیں گے جس کی پہچان لکڑی کی میزیں اور پرانے زمانے کی ہلکی سی لگژری کی فضا ہے۔‘
’اس فیری میں ایک منفرد خوبصورتی ہے اور ایک خاص احساس ہے۔‘
پاساباہچے نو افراد پر مشتمل عملے کے ساتھ ایشیائی ضلعے کادیکوئے اور یورپی جانب بشکتاش کے درمیان 20 منٹ کے راستے پر رواں دواں رہتی ہے۔