ستائیسویں آئینی ترمیم کے بل پر جائزے کے لیے پارلیمان کی قانون و انصاف کمیٹی کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔
اجلاس آج دوپہر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 5 میں شروع ہوا جس کی صدارت پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور ن لیگ کے چوہدری محمود بشیر ورک کر رہے ہیں۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ان تمام تجاویز پر بحث ہو گی جب پر نہیں ہو سکی تھی۔
مزید پڑھیں
-
27ویں ترمیم، منظوری کے بعد آئین میں کیا کچھ بدل جائے گا؟Node ID: 896961
انہوں نے کہا کہ ٹرانسفر آف ججز، آرٹیکل 243 اور جوائنٹ کمانڈ سمیت دیگر شقوں پر رائے لینے کے بعد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آج شام پانچ بجے سے پہلے بل کا جائزہ مکمل کر لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ستائیسویں آئینی ترمیم کے بل کو رپورٹ کی شکل میں آج ہی سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ پیر کو سینیٹ سے منظوری لی جائے گی۔
جمیعت علمائے فضل الرحمان نے گزشتہ روز اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
’وزیراعظم کو استثنیٰ سے متعلق شق واپس لی جائے‘
وزیرِاعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم میں وزیراعظم کو استثنیٰ دینے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی مجوزہ شق واپس لینے کا حکم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شہباز شریف نے لکھا، ’آذربائیجان سے واپسی پر مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہماری جماعت کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کو استثنیٰ دینے سے متعلق ایک ترمیم پیش کی ہے۔‘
وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ تجویز کابینہ سے منظور شدہ مسودے کا حصہ نہیں ہے، ’میں نے فوراً واپس لینے کی ہدایت کر دی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ، ’اصولی طور پر، ایک منتخب وزیراعظم کو عدالت اور عوام دونوں کے سامنے پوری طرح جوابدہ رہنا چاہیے۔‘
On my return from Azerbaijan, I have learnt that some Senators belonging to our party have submitted an amendment regarding immunity for the Prime Minister.
While I acknowledge their intent in good faith, the proposal was not part of the Cabinet-approved draft. I have…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) November 9, 2025
خیال رہے کہ سنیچر کو وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے بعد بل اسی روز سینیٹ میں پیش کر دیا گیا تھا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بل قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے سپرد کر دیا تھا۔
سنیچر کو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’49 شقوں میں ترمیم لائے ہیں، اس میں ایک وفاقی آئینی عدالت کا قیام تھا۔‘
سنیچر کو وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر مشاورت کی گئی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔












