پیپلز پارٹی کی آرٹیکل243 میں ترمیم اور آئینی عدالت کے قیام کی حمایت
پیپلز پارٹی کی آرٹیکل243 میں ترمیم اور آئینی عدالت کے قیام کی حمایت
جمعہ 7 نومبر 2025 18:32
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ان کی جماعت مجوزہ 27ویں ترمیم کے تحت آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 میں ترمیم کی حمایت کرے گی۔‘
جمعے کو کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر پارٹی موقف بیان کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اصولی طور پر پیپلز پارٹی آئینی عدالت کے قیام کے حق میں ہے جبکہ ججوں کے تبادلے کے معاملے پر ہم نے اپنی تجاویز تیار کی ہیں۔‘
’ججوں کے تقرر اور تبادلوں پر حکومت نے یہ تجویز دی ہے کہ اس کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے، ہماری تجویز ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں دونوں متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی مشاورت سے تبادلے کا فیصلہ کیا جائے۔‘
انہوں ںے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے گذشتہ منشور اور میثاقِ جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر موجود ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ میثاقِ جمہوریت کی دیگر باتوں کو بھی آگے بڑھایا جائے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ایوارڈ) کے تحت صوبوں کے فنڈز بڑھ تو سکتے ہیں کم نہیں ہو سکتے اور پیپلز پارٹی اس کا تحفظ کرے گی۔‘
’اگر صوبوں کے فنڈز کم کرنے کی کوشش کی گئی تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت نہیں کرے گی اور پھر حکومت کہیں اور سے دو تہائی اکثریت کا اانتظام کر لے۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’صوبوں کے فنڈز کم کرنے کی کوشش کی گئی تو پیپلز پارٹی حمایت نہیں کرے گی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’دہری شہریت کے معاملے پر اُن کی جماعت مجوزہ ترمیم پر حکومت کی حمایت نہیں کر سکتی۔‘
’سی ای سی کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے تین نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے، دہری شہریت اور مجسٹریٹی نظام پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’27 ویں آئینی ترمیم میں صدر پاکستان کے اختیارات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
’این ایف سی ایوارڈ 18 ویں ترمیم سے پہلے دیا گیا تھا، آرٹیکل 243 سے صدر کے اختیارات یا سول سپرمیسی پر اثر نہیں آئے گا، اگر جمہوریت یا سویلین بالادستی کو نقصان ہوتا تو ہم خود اس کی مخالفت کرتے۔‘