مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کی بات کی جائے تو گزشتہ ہفتے میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو سے بڑھ کر شاید ہی کوئی حالیہ مثال موجود ہے جو اس منظرنامے کی بہتر عکاسی کر سکے۔ یہ ویڈیو فوٹیج شام کے صدر احمد الشرع کے دورہ امریکہ کی ہے جس میں وہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے ساتھ باسکٹ بال کھیل رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ ویڈیو اگرچہ احمد الشرع کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے ایک روز قبل کی ہے جو شام کے وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس کے ساتھ لکھا، ’لگن کے ساتھ کام کریں اور اس سے بھی زیادہ لگن کے ساتھ کھیلیں۔‘
کچھ عرصہ قبل ہی امریکی سینٹرل کمانڈ نے احمد الشرع کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا اور آج وہ اُسی ادارے کے سربراہ کے ساتھ باسکٹ بال کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
سعودی ولی عہد سے ریاض میں شام کے صدر احمد الشرع کی ملاقاتNode ID: 896549
-
شامی صدر احمد الشرع کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقاتNode ID: 897056
یہ پہلا موقع نہیں جب احمد الشرع سابق دشمن کے ساتھ گھل مل رہے ہوں بلکہ ستمبر میں نیویارک میں ہونے والے کنکورڈیا سالانہ اجلاس میں وہ ریٹائرڈ امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ ایک ہی سٹیج پر موجود تھے۔
سال 2006 میں عراق میں تعینات امریکی فوج کی کمانڈ ڈیوڈ پیٹریاس کے ہاتھ میں تھی اور اُسی دور میں احمد الشراع کو پکڑا گیا اور پانچ سال کے لیے جیل میں رکھا گیا تھا۔
ستمبر میں ہونے والے اس اجلاس میں ڈیوڈ پیٹریاس نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے سابق دشمن کے ’مداح ہیں‘ اور یہ کہ ’ایک باغی رہنما سے مملکت کا سربراہ بننے تک کا سفر مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ ڈرامائی سیاسی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔‘
خیال رہے کہ بشار الاسد کو 24 سال اقتدار میں رہنے کے بعد معزول ہوئے صرف 11 ماہ گزر چکے ہیں اور ان کے دور حکومت کے آخری 13 سال شام خونریز خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا۔
ٹرمپ اور الشرع کے درمیان پیر کو واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات دراصل امریکہ اور علاقائی اتحادیوں کی مہینوں سے جاری عملی سفارت کاری کا نتیجہ ہے، اور اس کے ساتھ ہی احمد الشرع بھی یہ ثابت کرنے میں پرعزم رہے کہ وہ شام میں رہنے والے تمام قبیلوں کے صدر ہیں۔

فروری میں احمد الشرع نے بطور شام کے رہنما پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کیا تھا جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔
ستمبر میں الشرع نے تاریخ رقم کی جب وہ چھ دہائیوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے شامی رہنما بن گئے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا ’ان 60 سالوں میں شام ایک ظالم حکومت کے زیرِ تسلط تھا جس نے اپنی سرزمین کے اقدار کو نظر انداز کیا، اور اس کے مہربان اور پرامن لوگوں پر ظلم کیے۔‘
’اب، شام دنیا کی اقوام کے درمیان اپنا صحیح مقام دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔‘
جنرل اسمبلی سے خطاب میں احمد الشرع نے خاص طور پر سعودی عرب، ترکیہ، قطر، امریکہ اور یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے اگلے مہینے اکتوبر میں احمد الشرع نے دوبارہ ریاض کا سرکاری دورہ کیا لیکن اس مرتبہ وہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ کانفرنس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر الشراع نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو کھل کر بیان کیا۔
انہوں نے کہا، ’ہمارا پہلا بیرونی دورہ سعودی عرب کا تھا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا تک رسائی کی چابی مملکت میں موجود ہے۔‘
صدر ٹرمپ کے ساتھ تاریخی ملاقات سے قبل ایک اور اہم پیش رفت ہوئی اور احمد الشرع اور ان کے وزیر داخلہ انس حسن خطاب کو سکیورٹی کونسل کی داعش اور القاعدہ کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔
مئی میں صدر ٹرمپ نے شام پر سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت ایک بیان میں، وائٹ ہاؤس نے کہا ’دنیا کو نوٹس لینا چاہیے، اگر آپ امن اور استحکام کی جانب بامعنی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تو امریکہ آپ کی مدد کے لیے تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے خیال میں ’شدت پسندی کو روکنے، تعلقات کو بہتر بنانے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے شام کے ساتھ مل کر کام کرنے میں بڑی کامیابیاں ہو سکتی ہیں۔‘
ابتدا میں شام میں تجارت اور سرمایہ کاری پر عائد پابندیاں چھ ماہ کے لیے معطل کر دی گئی تھیں جبکہ پیر کے روز مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی اور شہری استعمال کی امریکی اشیا سمیت سافٹ ویئڑ اور ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
مئی میں جب صدر ٹرمپ اور الشرع نے ریاض میں ملاقات کی اور مصافحہ کیا تو یہ کسی امریکی اور شامی رہنما کے درمیان ایک چوتھائی صدی کے دوران پہلی ملاقات تھی۔
اس وقت بھی عالمی دہشت گرد کے طور احمد الشرع کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر تھی جو جمعے کو باقاعدہ طور پر ہٹا لی گئی۔
اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ الشرع ’بہت اچھا کام کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل علاقہ ہے، اور وہ ایک سخت انسان ہیں، لیکن میرا ان کے ساتھ اچھا تعلق ہے اور شام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
لندن کے تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام کی ڈائریکٹر صنم وکیل نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’الشرع کا وائٹ ہاؤس کا دورہ امریکہ اور شام کے درمیان تعلقات کی بحالی میں ایک اہم موڑ کی علامت ہے۔‘
انہوں نے امریکہ کی جانب سے شام پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے اور احمد الشرع کا نام دہشت گردی کی فہرست سے خارج کیے جانے پر کہا کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ’واشنگٹن شام کے سٹریٹجک کردار کو نہ صرف انسداد دہشت گردی اور علاقائی توانائی کے راستوں کے حوالے سے اہم سمجھتا ہے بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر بھی تسلیم کرتا ہے جو کئی دہائیوں کی جنگ اور بیرونی مداخلت کے بعد استحکام اور اقتصادی تجدید کی تلاش میں ہے۔‘

پیر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد شام نے 2014 میں تشکیل پانے والے داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت، قطر، بحرین اور اردن سمیت شام اس اتحاد میں شامل ہونے والا 90 واں ملک بن گیا ہے۔
امریکہ کے نیو لائنز انسٹی ٹیو سے منسلک کیرولائین روز نے عرب نیوز کو بتایا کہ ٹرمپ کی شام کی نئی حکومت کو اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت ’الشرع اور امریکی انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی ایک نئی سطح کی جانب اشارہ ہے۔‘












