Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دی ڈیزرٹ بیونڈ‘: پہلی اماراتی خاتون خلاباز کی زندگی پر مبنی فلم

دبئی میں متحدہ عرب امارات کے سپیس پروگرام پر مبنی ایک فیچر فلم کی پروڈکشن کا جلد آغاز ہونے والا ہے۔ اس فلم کی شوٹنگ دبئی اور متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں میں کی جائے گی۔
عرب نیوز کے مطابق ’دی ڈیزرٹ بیونڈ‘ 90 منٹ پر مشتمل ڈرامہ ہے جس میں خاتون کا مرکزی کردار ہے۔ یہ فلم عرب دنیا کی پہلی خاتون خلاباز کی افسانوی کہانی بیان کرتی ہے۔
پروڈیوسرز کے مطابق یہ فلم 2014 میں شروع ہونے والے متحدہ عرب امارات کے سپیس پروگرام اور خواتین کو سائنس اور ایجادات میں بااختیار بنانے کے وژن سے متاثر ہے۔
فلم کی پروڈکشن دبئی فلم اینڈ گیمز کمیشن کے تعاون سے کی جا رہی ہے اور اس کی ہدایتکاری آسکر کے لیے نامزد اور ایمی جیتنے والے فلم ساز ڈیوڈ ڈارگ کریں گے۔
ایگزیکٹیو پرودیوسر رشا خلیفہ المبارک ہوں گی جو نائی پروڈکشن ہاؤس کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ یہ ایک اماراتی کمپنی ہے جو سماجی موضوعات پر مبنی کہانیاں پیش کرتی ہے۔
پروڈیوسر کارلا دیبیلو ہوں گی جو عربیا پلس کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ یہ متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی ہے جو خطے کی کہانیاں عالمی سطح پر پیش کرتی ہے۔
’دی ڈیزرٹ بیونڈ‘کی انسپائریشن نورا المطروشی کے پیشہ ورانہ سفر سے لی گئی ہے جنہیں 2021 میں متحدہ عرب امارات کے سپیس پروگرام کے دوسرے بیچ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
اس کے بعد وہ ناسا ایسٹرونوٹ کینڈڈیٹ کلاس ٹریننگ پروگرام میں شامل ہوئیں جس سے وہ 2024 میں فارغ التحصیل ہوئیں۔

نورا المطروشی پہلی عرب خاتون ہیں جنہوں نے خلابازی کی ٹریننگ لینا شروع کی (فوٹو: اے ایف پی)

فلم کی کہانی مریم نامی ایک نوجان اماراتی انجینیئر کے گرد گھومتی ہے جو قوم کی توقعات کے دباؤ کا سامنا کرتی ہے، ذاتی شبہات پر قابو پاتی ہے اور حوصلہ پکڑتی ہے۔
اس دوران وہ خلائی مشن میں حصہ لینے کے لیے ملکی سطح پر پہلا موقع حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
پروڈیوسر کارلا دیبیلو نے کہا کہ ’ایسی کہانی سکرین پر پہلے کبھی نہیں دکھائی گئی۔ ہم عرب دنیا سے خاتون کے مرکزی کردار پر مبنی کہانی بین الاقوامی ناظرین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ خواتین نہ صرف رُکاوٹیں توڑ رہی ہیں بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ قیادت اور ترقی کا مطلب آج کے مشرق وسطیٰ میں کیا ہے۔‘
ایگزیکٹیو پرودیوسر رشا خلیفہ المبارک نے کہا کہ ’یہ فلم تبدیلی کو سراہتی ہے: ذاتی، ملکی اور نسلی۔ یہ ہمارے ورثے کا احترام کرتے ہوئے مستقبل کی طرف جرات مندانہ قدم بڑھانے کی کہانی ہے۔‘
پروڈیوسرز کے مطابق فلم کے لیے جلد کاسٹنگ کا آغاز ہوگا۔
سیکریٹری جنرل دبئی میڈیا کونسل نیحال بدری نے کہا کہ ’اس پروجیکٹ کے تعاون میں دبئی فلمز اینڈ گیمز کمیشن کا کردار ہمارے مشن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد دبئی کو میڈیا کی جدت کے عالمی مرکز کے طور پر مضبوط بنانا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پُرعزم ہیں کہ فلم انڈسٹری اور وسیع میڈیا سیکٹر کو وہ وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں جن کی مدد سے وہ متحدہ عرب امارات کی کہانیاں عالمی سطح پر پیش کر سکیں، جو نئی نسلوں کو روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے متاثر کریں۔‘

 

شیئر: