پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالتوں نے کام شروع کر دیا ہے۔
صوبے کے تقریباً ہر ضلع میں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق مقدمات سننے کے لیے الگ مخصوص عدالتیں باقاعدہ طور پر کام شروع کر چکی ہیں۔
ابتدائی طور پر پنجاب کے 37 اضلاع میں اووسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جس میں ہر عدالت کی سربراہی ایک ایڈیشنل سیشن جج کر رہے ہیں۔
کئی برسوں کی کوششوں کے بعد عدالتوں کا قیام:
اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب 2021 کے ایک قانون کے تحت قائم ہوا جس میں لاہور ہائی کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں نامزد کر سکے۔
مزید پڑھیں
اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز کے لیے خصوصی سیل اور بینچ بھی بنائے جہاں باہر کے ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کی شکایات اور مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کی کوشش کی گئی۔
2018 میں لاہور ہائی کورٹ نے تمام اضلاع کے سیشن ججز کو ہدایت دی تھی کہ اوورسیز پاکستانیوں کے زیرِ التوا مقدمات چھ ماہ کے اندر اندر نمٹا دیے جائیں تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
اسی دوران لاہور ہائی کورٹ کے اوورسیز سیل کو ہزاروں شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے دو ہزار سے زائد ایسے معاملات نکلے جو دراصل اوورسیز کی کیٹیگری میں آتے ہی نہیں تھے۔ یعنی لوگ خود کو ’اوورسیز‘ ظاہر کر کے اپنی عام نوعیت کے کیسز میں بھی تیزی سے ریلیف لینے کی کوشش کرتے رہے۔
پھر بھی سیل نے دو ہزار سے زیادہ کیسز نمٹائے اور صرف سات سو کے قریب مقدمات زیرِ التوا رہ گئے تھے۔ یہ سب اس بات کی علامت تھی کہ ایک طرف تو اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور دوسری طرف انہیں موجودہ عدالتی ڈھانچے میں الگ ترجیح دیے بغیر تیزی سے نمٹانا آسان نہیں۔

تاہم حالیہ مہنیوں میں پنجاب نے ایک باضابطہ قانون پنجاب اسٹیبلشمنٹ آف سپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2025 کے ذریعے اوورسیز کے لیے عدالتیں ہی الگ بنا دی ہیں۔ یہ قانون پورے پنجاب پر لاگو ہے اور اس کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کی غیرمنقولہ جائیداد (اراضی، مکان، پلازہ وغیرہ) سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنا ہے۔ آج سے جو37 مخصوص عدالتیں کام شروع کر رہی ہیں وہ اسی قانون کے تحت وجود میں آئی ہیں۔
یہ 37 عدالتیں کہاں اور کیسے قائم ہوئیں؟
پنجاب حکومت نے گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ کی مشاورت سے صوبے کے تمام 37 اضلاع میں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق مقدمات کے لیے الگ سپیشل کورٹس نوٹیفائی کی ہیں۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہر ضلع میں ضلعی اور اضافی ضلعی و سیشن ججوں میں سے ایک کو اوورسیز سپیشل کورٹ کا جج نامزد کیا گیا ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ججز پہلے ہی سیشن کورٹس میں تعینات تھے انہیں اضافی ذمے داری ملے گی کہ اب وہ اوورسیز کے مخصوص کیسز ایک علیحدہ رجسٹر اور علیحدہ کیلنڈر کے تحت سنیں گے۔
اطلاعات کے مطابق زیادہ تر اضلاع میں اوورسیز سپیشل کورٹ کا جج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہوگا جو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا پابند ہوگا۔ اس انتظام سے بظاہر نئی عمارتیں نہیں بنی ہیں مگر موجودہ عدالتی انفراسٹرکچر کے اندر ایک الگ ’ٹریک‘کھولا گیا ہے جو صرف اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے لیے مختص ہے۔
کون سے مقدمات یہاں سنے جائیں گے؟
قانون کے مطابق پنجاب کی یہ سپیشل کورٹس صرف اور صرف اوورسیز پاکستانیوں کی ’غیرمنقولہ جائیداد‘ کے تنازعات سنیں گی۔ یعنی وہ مقدمات جن کا تعلق زمین، مکان، پلازہ، زرعی اراضی یا کسی بھی ایسی ملکیت سے ہو جو رجسٹری، فردِ ملکیت یا سرکاری ریکارڈ میں درج ہوتی ہے۔ سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ان عدالتوں کے سامنے آنے والے عام مقدمات میں درج ذیل نوعیت کے تنازعات شامل ہوں گے۔
جائیداد پر ناجائز قبضہ، جسے عام زبان میں ’قبضہ گروپ‘ کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ ایسے کیسز جہاں رشتہ دار یا مقامی بااثر لوگ اوورسیز پاکستانی کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر زمین اپنے نام کروانے کی کوشش کریں۔

جعلی رجسٹریاں، فریب سے منتقلی، ایک ہی پلاٹ کئی لوگوں کو بیچنے جیسے دھوکہ دہی کے مقدمات، وراثتی جائیداد میں حصہ نہ دینا، یا اوورسیز کے حصے پر کوئی دوسرا قابض رہنا۔ وہ مقدمات جہاں اوورسیز پاکستانی چاہتا ہو کہ اسے اپنی جائیداد واگزار کرا کے ملکیت کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
یہ عدالتیں ایسے کیسز بھی سن سکیں گی جن میں سول اور فوجداری دونوں پہلو ہوں مثلاً جعلی کاغذات بنا کر جائیداد ہتھیانا، دھوکہ دہی سے بیع نامہ کرنا اور ساتھ ساتھ دھمکیوں یا تشدد کا استعمال۔
اس سے پہلے ایسے مقدمات عام سیشن کورٹس، ریونیو عدالتوں یا دیوانی عدالتوں میں بکھرے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے ایک اوورسیز پاکستانی کو اپنے واحد کیس کے لیے بھی کئی فورمز کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔
مقدمات کیسے دائر ہوں گے؟
نئے نظام کے مطابق اب اوورسیز پاکستانی، یا ان کا وکیل یا مختارنامہ ہولڈر، براہِ راست اس ضلع کی اوورسیز سپیشل کورٹ میں مقدمہ دائر کر سکے گا جہاں متعلقہ جائیداد واقع ہو۔ اوورسیز پاکستانی خود بیرونِ ملک ہو تو وہ وہاں سے اپنے وکیل کو وکالت نامہ بھیج کر یا سفارتی مشن کے ذریعے تصدیق شدہ پاور آف اٹارنی کے ساتھ مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔
وفاقی سطح پر اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور صوبائی سطح پر اوورسیز کمیشن کے آن لائن پورٹل پہلے ہی شکایات اور کیسز کے ڈیٹا کو جمع کر رہے ہیں۔
اب انہی کے ذریعے یا براہِ راست وکلا کے ذریعے یہ مقدمات سپیشل کورٹس تک پہنچ سکیں گے۔

جہاں تک پرانے مقدمات کا تعلق ہے سرکاری اعلامیوں میں یہ واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق جو کیسز اس وقت عام سیشن یا دیوانی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں انہیں فہرست بنا کر ان سپیشل کورٹس میں منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کا فیصلہ برسوں کے بجائے نسبتاً کم عرصے میں ہو سکے اور وہ دیگر لاکھوں مقدمات کے بوجھ میں گم نہ رہیں۔
منتقلی کا عملی طریقہ یہ ہو گا کہ ہر ضلع کی عدالتیں اپنے ریکارڈ سے وہ مقدمات الگ کریں گی جن میں فریق بننے والے مدعی یا مدعا علیہ اوورسیز پاکستانی کے طور پر رجسٹر ہوں پھر ضلعی و سیشن جج کے حکم سے انہیں سپیشل کورٹ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔
ہر ضلع میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک مخصوص فورم
پنجاب کی ان سپیشل کورٹس کا سب سے بڑا عملی فائدہ یہ ہے کہ اب تقریباً ہر ضلع میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک مخصوص فورم موجود ہو گا۔
پنجاب کی 37 اضلاع کی تقسیم کے مطابق یہ عدالتیں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، سرگودھا، بہاولپور، رحیم یار خان، سیالکوٹ، شیخوپورہ سمیت ہر بڑے اور چھوٹے ضلع میں کام کریں گی۔













