Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہلی کار بم دھماکے کے ملزم کی عدالت میں پیشی، دوسرا مشتبہ شخص گرفتار

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے کار بم دھماکے کے ایک مشتبہ ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا ملزم ان تین افراد میں شامل ہے جن کے بارے میں حکام کو شبہ ہے کہ وہ اس دھماکے میں ملوث ہیں۔
حکام نے ان ملزمان سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ ان کا تعلق انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے ہے تاہم کسی تنظیم یا گروپ سے ان کے تعلق کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
انڈیا کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ عامر رشید پر مبینہ خودکش بمبار عمر النبی کے ذریعے اس حملے کی سازش کرنے کا الزام ہے۔‘
این آئی اے نے بتایا تھا کہ اس حملے میں 10 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ ہسپتال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ بم حملے میں مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے۔
حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے گزشتہ پیر کو عمر النبی کا ایک ساتھی کشمیر سے گرفتار کیا ہے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عدالت نے ملزم کو مزید 10 دن تک این آئی اے کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
یہ دھماکہ پرانی دہلی میں لال قلعے کے قریب ایک مصروف میٹرو سٹیشن کے نزدیک دھماکہ ہوا تھا جہاں سے وزیراعظم ہر سال یوم آزادی کی تقریر کرتے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اس حملے کو ایک ’سازش‘ قرار دیا اور ’مجرموں، ان کے معاونین اور ان کے سرپرستوں‘ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ پیر کو عمر النبی کا ایک ساتھی کشمیر سے گرفتار کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

این آئی اے کے مطابق عمر النبی دارالحکومت کے بالکل باہر ہریانہ ریاست کی ایک یونیورسٹی میں میڈیکل کے پروفیسر تھے جبکہ علی مبینہ طور پر اس حملے میں استعمال ہونے والی کار کی خریداری میں ’سہولت فراہم کرنے‘ کے لیے دہلی گئے تھے۔
انڈیا نے ملزمان کے مبینہ محرکات یا نیٹ ورک کے بارے میں مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
یہ بم دھماکہ 22 اپریل کے بعد بدترین حملہ تھا جب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر 26 ہندو شہری مارے گئے تھے۔
نئی دہلی نے اس حملے کی پشت پناہی کا الزام پاکستان پر لگایا تھا جبکہ اسلام آباد نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا۔
اس کے بعد انڈیا نے مئی 2025 میں پاکستان کے اندر حملے کیے جس سے چار دن تک سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے بعد نریندر مودی نے عزم کیا تھا کہ ’انڈین سرزمین پر کسی بھی حملے کو جنگی کارروائی سمجھا جائے گا۔‘

یہ بم دھماکہ 22 اپریل کے پہلگام حملے کے بعد کا بدترین حملہ تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انڈین آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی نے پیر کو پاکستان کو ایک تنبیہہ بھی جاری کی اور مئی کی مختصر جھڑپ کو مکمل فلم کے بجائے ایک ’ٹریلر‘ قرار دیا۔
اپیندر دویدی نے نئی دہلی میں ایک دفاعی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ فلم تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہے، صرف ایک ٹریلر دکھایا گیا تھا اور ٹریلر کے بعد یہ 88 گھنٹوں کے اندر ختم ہو گیا۔‘
’لہٰذا ہم مستقبل کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اگر پاکستان ہمیں ایسا موقع فراہم کرتا ہے تو ہم انہیں ایک مکمل سبق سکھانا چاہیں گے کہ ایک ذمہ دار قوم کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے۔‘

شیئر: