Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈونیشیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں تباہ کن طوفان سے 700 سے زائد ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر

جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا شدید موسمی بحران سے دوچار ہے جہاں طوفانوں اور موسلادھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سری لنکا اور ملائیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے اور بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہیں۔
انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر
سماٹرا جزیرے پر سائیکلون ’سینیار‘ نے تباہی مچائی جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور شدید سیلاب نے ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچایا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 435 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک اور ادویات پہنچائی جا رہی ہیں، تاہم مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کیونکہ لوگ بھوک اور پیاس سے پریشان ہیں۔
تھائی لینڈ میں ایمرجنسی
جنوبی تھائی لینڈ میں شدید بارشوں نے ہیٹ یائی شہر کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جہاں پانی کی سطح آٹھ فٹ تک پہنچ گئی۔ حکومت کے مطابق 162 افراد ہلاک اور 35 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔
مریضوں کو فضائی راستے سے نکالا جا رہا ہے اور ضروری سامان، بشمول آکسیجن ٹینک، ڈوبی ہوئی بستیوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ بارش 300 سال میں ایک بار ہونے والی شدت کی تھی۔
سری لنکا میں لاکھوں بے گھر

ملائیشیا میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ 34 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

سائیکلون ’ڈٹواہ‘ نے سری لنکا میں تباہی مچائی ہے جہاں 153 افراد ہلاک اور 25 ہزار گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دارالحکومت کولمبو کے نشیبی علاقے زیر آب ہیں اور بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ متاثرین کو خوراک اور ادویات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ مقامی مساجد اور سکولوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ملائیشیا میں بھی نقصان
ملائیشیا میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ 34 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ شمالی پرلس ریاست میں کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یہ شدید موسمی حالات موسمیاتی تبدیلی اور دو فعال نظاموں کے امتزاج کا نتیجہ ہیں، جن میں فلپائن میں ٹائفون ’کوٹو‘ اور ملاکا آبنائے میں سائیکلون ’سینیار‘ شامل ہیں۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ حساس خطوں میں سے ایک ہے۔

 

شیئر: