عمران خان سے 20 منٹ کی ملاقات ہوئی، ان کی صحت ٹھیک ہے: عظمیٰ خان
پاکستانی تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔
عظمیٰ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں کے سوالوں کے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ (عمران خان) بڑے غصے میں تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ ہمیں ذہنی طور پر ٹارچر کر رہے ہیں۔ سارا دن کمرے میں بند، تھوڑا سا باہر نکل سکتے ہیں، کسی سے کوئی کمیونیکشن نہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے ساتھ ان کی قریباً 20 منٹ کی ملاقات ہوئی ہے۔
اس سے قبل تحریک انصاف کے اسلام آباد پارلیمنٹ اور اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاج کے بعد عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو ان سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی تھی۔
عظمیٰ خان نے منگل کی شام اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ایک ماہ ہو گیا، عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔‘
میڈیا سے بات نہ کرنے کی شرط سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’نہیں ایسی کوئی شرط نہیں۔ کوئی ہوتا کون ہے ہمیں روکنے والا۔ میں واپس آتی ہوں تو بات کریں گے۔‘
کیا آپ کو علیمہ خان نے کوئی خاص پیغام دیا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہاں، پیغام تو لے کے جاؤں گی۔‘
منگل کی دوپہر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کیا اور عمران خان کی رہائی کے لیے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے شہر میں سکیورٹی سخت کر دی تھی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد 28 مقامات پر پولیس ٹیمیں تعینات کر کے قیدیوں کی وین اور واٹر کینن بھی مہیا کی گئیں۔
حکام نے مختلف مقامات پر 1500سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
دوسری جانب راولپنڈی انتظامیہ نے بھی اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی اور پانچ نئی چیک پوسٹیں بھی قائم کیں۔
داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور پر اضافی نفری کو تعینات کیا گیا۔
شہر کے 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز اور خواتین اہلکاروں کو بھی سکیورٹی پر مامور کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ، خیبر پختونخوا کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر آج اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ منگل کو تمام ارکان اسمبلی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے جس کے بعد اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاج ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’منگل کو تمام ارکان پارلیمنٹ، ارکان صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے تاکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کیسز کو جلد سے جلد سنا جائے۔‘
پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اس کے بعد عمراں خان کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تمام پارلیمیڑیرینز اڈیالہ جیل کے سامنے جائیں گے۔‘
