Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کی غزہ کے مکینوں کی مصر بے دخلی کی کوششوں پر تشویش

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’ٹرمپ پلان‘ پر مکمل عمل درآمد آگے بڑھانا لازم ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب، پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر نے اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں صرف ایک سمت سے رفح کراسنگ کھولنے اور غزہ کے مکینوں کو مصر منتقل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
جمعے کو ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’فلسطین کے عوام کو اُن کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے، جس میں رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھلا رکھنے، آبادی کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے، اور غزہ کے کسی بھی رہائشی کو نقل مکانی پر مجبور نہ کرنے کی شقیں شامل ہیں۔
 ’اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت، جس کا مقصد استحکام بحال کرنا اور فلسطینیوں کی انسانی صورت حال بہتر بنانا ہو، ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن کے تحت فلسطینی اپنی زمین پر قیام کرسکیں اور اپنے وطن کی تعمیر میں حصہ لے سکیں۔‘
وزرائے خارجہ نے امن کے قیام کے لیے صدر ٹرمپ کی وابستگی کی تحسین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’ٹرمپ پلان‘ پر مکمل عمل درآمد کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھانا لازم ہے، تاکہ امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور علاقائی استحکام کی بنیادوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وزرا جنگ بندی کے تسلسل، شہریوں کی تکالیف میں کمی، غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی، ابتدائی بحالی اور تعمیرِنو کے اقدامات کے آغاز، اور ان حالات کی تخلیق پر زور دیتے ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کے قابل بنائیں، تاکہ خطے میں ایک نئے مرحلے کے استحکام اور سلامتی کی راہ ہموار کی جا سکے۔‘
’وزرا اس بات کی بھی توثیق کرتے ہیں کہ اُن کے ممالک امریکہ اور تمام متعلقہ علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور دیگر متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے، اور ایسے مناسب حالات پیدا کیے جائیں جن کے ذریعے بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن حاصل ہو سکے، جس کا نتیجہ 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں نکلے، جس میں غزہ اور مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے شامل ہوں، اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘

شیئر: