Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2026 میں بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کون سے ہیں؟

فن لینڈ بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کا بہترین ملک ہے (فوٹو: انسپلیش)
بچوں کی پرورش والدین کی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور وہ جس ملک میں رہتے ہیں وہ بچوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
آج کے دور میں والدین صرف اچھی نوکری یا زیادہ تنخواہ ہی نہیں دیکھتے بلکہ وہ تحفظ، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
’گلوبل سٹیزن سولوشنز‘ کی رپورٹ میں ایسے ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جو 2026 میں بچوں کی پرورش کے لحاظ سے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔
اس فہرست میں شمالی یورپ کے ممالک نمایاں ہیں جو عالمی معیار کی تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے علاوہ پرامن ماحول بھی رکھتے ہیں۔

فن لینڈ

فہرست میں فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے اور اسے  بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل پیس انڈیکس 2025 کے مطابق فن لینڈ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شامل ہے۔
یہاں تعلیمی معیار او ای سی ڈی کی اوسط سے بہتر ہے، صحت کی سہولیات بہت آسان اور مفت ہیں جبکہ والدین کو 160 دن کی تنخواہ سمیت رخصت بھی دی جاتی ہے۔ ہیلسنکی اور ٹیمپیرے فیملیز کی پسندیدگی کے لحاظ سے یہاں کے مقبول شہر ہیں۔

ڈنمارک

اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ڈنمارک ہے جہاں کی پالیسیاں عوامی فلاح پر مبنی ہیں۔ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی فلاح پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
والدین کو 52 ہفتے تک چھٹی ملتی ہے اور صحت کی سہولتیں ٹیکس کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈنمارک عالمی خوشی کے انڈیکس میں دوسرے نمبر پر ہے۔

سویڈن میں تعلیم کا معیار او ای سی ڈی کی اوسط سے بہتر ہے (فوٹو: انسپلیش)

سویڈن

اس فہرست میں تیسرے نمبر پر سویڈن ہے جہاں تعلیم کا معیار ریاضی، سائنس اور مطالعہ میں او ای سی ڈی اوسط سے بہتر ہے۔
یہاں یونیورسل ہیلتھ کیئر فراہم کی جاتی ہے اور والدین کو ہر بچے کے لیے 480 دن کی رخصت دی جاتی ہے۔ سٹاک ہوم اور گوتھن برگ خاندانوں کے پسندیدہ شہر ہیں۔

نیدر لینڈز

نیدرلینڈز کا اس فہرست میں چوتھا نمبر ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مضبوط پبلک سسٹم اور واضح امیگریشن پالیسیز فیملیز کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔
یہاں طلبہ ریاضی میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جبکہ صحت کا نظام وسیع سہولتوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ ہائی سکلڈ مائیگرنٹ پروگرام اور یورپی یونین بلیو کارڈ کے تحت یہاں خاندان مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

کینیڈا خاندانوں کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے (فوٹو: انسپلیش)

ناروے

اس فہرست میں ناروے کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں بچوں کی پرورش فطرت کے قریب کی جاتی ہے۔
والدین کو طویل المدتی تنخواہ سمیت رخصت، یونیورسل ہیلتھ کیئر اور ہنرمند افراد کے لیے آسان امیگریشن راستے دستیاب ہیں۔

کینیڈا

کینیڈا خاندانوں کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔ مضبوط سرکاری تعلیمی ادارے، اعلیٰ جامعات اور قدرتی مناظر اسے ایک پرکشش ملک بناتے ہیں۔
ایکسپریس انٹری اور سٹارٹ اپ ویزا پروگرام کے ذریعے خاندان یہاں مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہے جو صاف ستھرے شہروں کے لیے مشہور ہے (فوٹو: انسپلیش)

نیوزی لینڈ

اس فہرست کے ساتویں نمبر پر نیوزی لینڈ ہے جہاں سادہ طرزِ زندگی، معاشرتی اقدار اور قدرتی ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سرکاری صحت کی سہولتیں بچوں کے لیے بہت کم لاگت میں دستیاب ہیں جبکہ سکلڈ مائیگرنٹ ویزا کے تحت خاندان ایک ساتھ منتقل بھی ہو سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ

فہرست میں سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہے جو صاف ستھرے شہروں، معیاری تعلیم اور بہترین صحت کے نظام کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہاں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کافی پرکشش سہولتیں موجود ہیں جبکہ غیر یورپی خاندانوں کے لیے فیملی ری یونین کے واضح قوانین ہیں۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ 2026 میں وہی ممالک بچوں کی پرورش کے لیے موزوں سمجھے جا رہے ہیں جہاں ریاست والدین اور بچوں دونوں کی فلاح کو ترجیح دیتی ہے۔

شیئر: