مریم نواز کے صوابدیدی فنڈ میں غیرمعمولی اضافہ، استعمال کے قواعد کیا ہیں؟
مریم نواز کے صوابدیدی فنڈ میں غیرمعمولی اضافہ، استعمال کے قواعد کیا ہیں؟
بدھ 31 دسمبر 2025 15:23
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کے مطابق صوابدیدی فنڈ کا استعمال مسلسل یکساں نہیں رہا۔ فوٹو: مریم نواز فیس بک
پنجاب حکومت کی مالی دستاویزات کے مطابق مالی سال 26-2025 میں وزیراعلیٰ پنجاب کے صوابدیدی فنڈ میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق گذشتہ مالی سال 25-2024 میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے لیے تین کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ رواں مالی سال میں یہ رقم بڑھا کر 15 کروڑ روپے کر دی گئی ہے جو گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا اضافہ بنتا ہے۔
تاہم دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ اس بھاری الاٹمنٹ کے باوجود تاحال پوری رقم جاری نہیں کی گئی اور رواں برس اب تک صرف چھ کروڑ روپے کے قریب فنڈ جاری ہوا ہے جس میں سے تقریباً پانچ کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ دکھائے گئے ہیں۔
گذشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کے مطابق وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کا استعمال مسلسل یکساں نہیں رہا۔ مالی سال 22-2021 میں اس مد میں تین کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے اور تقریباً پوری رقم خرچ بھی ہوئی۔
2022-23 میں الاٹمنٹ تو برقرار رہی لیکن خصوصی ایڈجسٹمنٹ کے بعد صرف دو کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ 24-2023 ایک ایسا برس رہا جس میں اگرچہ بجٹ میں ایک کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے تھے، تاہم اسی رقم کو واپس لے لیا گیا اور نتیجتاً اس سال نہ کوئی رقم جاری ہوئی اور نہ ہی خرچ ہوئی۔
اس کے بعد 25-2024 میں دوبارہ تین کروڑ روپے مختص کیے گئے اور تقریباً پوری رقم خرچ کر دی گئی، جبکہ اب 26-2025 میں صوابدیدی فنڈ کو غیرمعمولی طور پر بڑھا دیا گیا ہے۔
صوابدیدی فنڈ کے استعمال کے قواعد
پنجاب میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے استعمال کا قانونی فریم ورک سنہ 1988 کے قواعد کے تحت طے ہے۔ ان قواعد کے مطابق یہ فنڈ صوبے کی نادار بیواؤں، یتیموں، طلبہ، فنکاروں اور ادبی شخصیات کی مالی مدد، غریب مریضوں کے طبی علاج، نمایاں خدمات کے اعتراف میں انعامات، تعلیمی، ثقافتی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں غیرمعمولی کارکردگی پر اعزازات، اور اس کے علاوہ کسی ایسے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جسے وزیراعلیٰ مناسب سمجھے۔ یہی آخری شق اس فنڈ کو وسیع صوابدید فراہم کرتی ہے اور اسی وجہ سے یہ مد اکثر شفافیت اور ترجیحات کے حوالے سے بحث کا موضوع بنتی رہی ہے۔
پنجاب میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے استعمال کا قانونی فریم ورک 1988 کے قواعد کے تحت طے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ماہر معیشت ڈاکٹر قیس اسلم کہتے ہیں کہ ’صوبائی سطح پر صوابدیدی فنڈ کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ محکمہ خزانہ بجٹ میں اس مد کے لیے رقم مختص کرتا ہے جسے صوبائی کابینہ اور پھر صوبائی اسمبلی کی منظوری حاصل ہوتی ہے۔ تاہم فنڈ کے اجرا اور عملی استعمال کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس رہتا ہے جس کے باعث بجٹ میں رکھی گئی پوری رقم ہر سال لازمی طور پر خرچ ہونا ضروری نہیں ہوتی۔ پنجاب کے حالیہ اعداد و شمار اس بات کی مثال ہیں کہ بعض برسوں میں یہ فنڈ نہ ہونے کے برابر استعمال ہوا جبکہ اب اسی مد میں ایک بڑا اضافہ سامنے آیا ہے۔‘
خیال رہے دیگر صوبوں میں بھی وزرائے اعلیٰ کے لیے اسی نوعیت کی صوابدیدی مدات موجود ہیں تاہم ان کی مقدار، نام اور قواعد ہر صوبے میں مختلف ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ بجٹ بحث کے دوران وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ میں نمایاں اضافے پر اعتراضات سامنے آئے جو کہ پانچ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سندھ میں بھی ماضی میں وزیراعلیٰ کی ہدایات پر خرچ کی جانے والی خصوصی گرانٹس بجٹ دستاویزات کا حصہ رہی ہیں۔