خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں امن و امان کی تشویش ناک صورتِ حال کے پیش نظر وادی تیراہ میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ممکنہ آپریشن کی تیاری شروع کردی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور عمائدین کے درمیان نقل مکانی پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 24 رکنی جرگہ کمیٹی میں جرگہ کامیاب ہوا جس کے تحت 10 جنوری سے باقاعدہ نقل مکانی کا آغاز ہو گا۔
مقامی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں تیراہ کے متاثرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہو گی۔
مزید پڑھیں
-
مفاد پرستانہ سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر ہے: فیلڈ مارشلNode ID: 898944
ضلع خیبر کے ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’وادی تیراہ کے بیشتر مقامات سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اب تک پانچ ہزار سے زیادہ متاثرین اپنے گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نقل مکانی کرنے والوں کا مکمل ڈیٹا جنوری کے مہینے میں حاصل کیا جائے گا۔‘
حکام کے مطابق تیراہ وادی میں صرف باغ کے مکین اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لیے رضامند نہیں ہوئے جن سے مذاکرات جاری ہیں۔
ضلع خیبر کے صحافی احتشام خان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’تیراہ میں موسم کی خرابی کے باوجود 10 ہزار سے زائد متاثرین نقل مکانی کر چکے ہیں۔ بالائی علاقوں میں برف پڑی ہے تو اس لیے بھی ان علاقوں کے رہائشی گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’باغ کے رہائشی اپنے گھروں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنا گھر بار نہیں چھوڑیں گے۔‘
صوبائی حکومت کا مؤقف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 25 دسمبر کو ضلع خیبر کے دورے کے دوران مقامی عمائدین اور عوام کے جرگے سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے تیراہ آپریشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ’امن جرگے میں متفقہ طور پر کسی بھی نئے آپریشن کی مخالفت کی گئی تھی، تاہم اب اسی متفقہ امن ایجنڈے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’میرے خلاف منظم پروپیگنڈے کے ذریعے یہ جھوٹا تاثر دیا جا رہا ہے کہ آپریشن کی اجازت دی گئی ہے۔‘
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے معاون برائے اطلاعات شفیع جان نے پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملٹری آپریشن کی مخالفت کی۔
ان کا مؤقف تھا کہ ’پی ٹی آئی شروع دن سے ہی آپریشن کے خلاف ہے کیوں کہ اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ بڑھیں گے۔‘
ان کے مطابق ’اس سے قبل بھی متعدد بار آپریشن ہوئے مگر دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی اس لیے آپریشن کی بجائے بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنا چاہیے۔‘












