Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع تیراہ میں آپریشن کی تیاری، ہزاروں لوگوں کی نقل مکانی

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملٹری آپریشن کی مخالفت کی۔ (فوٹو: اے پی پی)
 خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع  خیبر میں امن و امان کی تشویش ناک صورتِ حال کے پیش نظر وادی تیراہ میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ممکنہ آپریشن کی تیاری شروع کردی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور عمائدین کے درمیان نقل مکانی پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 24 رکنی جرگہ کمیٹی میں جرگہ کامیاب ہوا جس کے تحت 10 جنوری سے باقاعدہ نقل مکانی کا آغاز ہو گا۔
مقامی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں تیراہ کے متاثرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہو گی۔
ضلع خیبر کے ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’وادی تیراہ کے بیشتر مقامات سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اب تک پانچ ہزار سے زیادہ متاثرین اپنے گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نقل مکانی کرنے والوں کا مکمل ڈیٹا جنوری کے مہینے میں حاصل کیا جائے گا۔‘
حکام کے مطابق تیراہ وادی میں صرف باغ کے مکین اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لیے رضامند نہیں ہوئے جن سے مذاکرات جاری ہیں۔
ضلع خیبر کے صحافی احتشام خان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’تیراہ میں موسم کی خرابی کے باوجود 10 ہزار سے زائد متاثرین نقل مکانی کر چکے ہیں۔ بالائی علاقوں میں برف پڑی ہے تو اس لیے بھی ان علاقوں کے رہائشی گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’باغ کے رہائشی اپنے گھروں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنا گھر بار نہیں چھوڑیں گے۔‘

صوبائی حکومت کا مؤقف

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 25 دسمبر کو ضلع خیبر کے دورے کے دوران مقامی عمائدین اور عوام کے جرگے سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے تیراہ آپریشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ’امن جرگے میں متفقہ طور پر کسی بھی نئے آپریشن کی مخالفت کی گئی تھی، تاہم اب اسی متفقہ امن ایجنڈے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

وادی میں امن و امان کی تشویش ناک صورتِ حال کے باعث ممکنہ آپریشن کی تیاری شروع کردی گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’میرے خلاف منظم پروپیگنڈے کے ذریعے یہ جھوٹا تاثر دیا جا رہا ہے کہ آپریشن کی اجازت دی گئی ہے۔‘
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے معاون برائے اطلاعات شفیع جان نے پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملٹری آپریشن کی مخالفت کی۔
 ان کا مؤقف تھا کہ ’پی ٹی آئی شروع دن سے ہی آپریشن کے خلاف ہے کیوں کہ اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ بڑھیں گے۔‘
ان کے مطابق ’اس سے قبل بھی متعدد بار آپریشن ہوئے مگر دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی اس لیے آپریشن کی بجائے بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنا چاہیے۔‘

25 دسمبر کو عمائدین کے جرگے سے خطاب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آپریشن کی مخالفت کی تھی (فوٹو: ایکس، سہیل آفریدی)

متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

مقامی انتظامیہ اور عمائدین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا جس کے تحت آپریشن کے دوران منہدم ہونے والے مکان کے عوض 30 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان کی صورت میں 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
 حکام کے مطابق ہر متاثرہ خاندان کو بائیومیٹرک تصدیق کے بعد دو لاکھ 50 ہزار روپے کی نقد امداد فراہم کی جائے گی جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 50 ہزار روپے بھی دیے جائیں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ’متاثرین کو ٹرانسپورٹ، راستوں میں طبی سہولیات اور خوراک بھی فراہم کی جائے گی۔‘
واضح رہے کہ وادی تیراہ میں اس سے قبل بھی آپریشن خیبر، آپریشن در اغللم، بیا دراغللم، آپریشن خوخہ بہ دے شم اور ضرب غضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔

 

شیئر: