Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا گوگل کی مصنوعی ذہانت غلط معلومات سے لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہی ہے؟

سٹیفنی پارکر نے کہا کہ ’لوگ پریشانی کے وقت انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں، اگر معلومات غلط ہوں تو یہ نقصان دہ ہے۔‘ (فوٹو: ایمرجنگ ٹیک)
برطانوی اخبار دی گارڈین کی تحقیق کے مطابق گوگل کے کے مصنوعی ذہانت کے اوورویوز، جو سرچ نتائج کے اوپر ظاہر ہوتے ہیں، بعض اوقات صحت کی غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ خلاصے ’مددگار‘ اور ’قابل اعتماد‘ ہیں، لیکن ماہرین نے کئی مثالوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔
ایک کیس میں گوگل نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا، جو ماہرین کے مطابق بالکل غلط ہے اور مریض کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ کے بارے میں دی گئی معلومات بھی غلط تھیں، جس سے سنگین بیماری کے شکار افراد خود کو صحت مند سمجھ سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹ کے بارے میں بھی سرچ نتائج میں ’بالکل غلط‘ معلومات دی گئیں، جیسے کہ پیپ ٹیسٹ کو اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ قرار دینا، جو حقیقت میں درست نہیں۔
صحت کے ماہرین اور چیریٹیز نے خبردار کیا ہے کہ ایسے غلط مشورے لوگوں کو علاج سے دور رکھ سکتے ہیں یا جان لیوا نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے اے آئی اوورویوز آن لائن سرچز کے اوپر غلط معلومات رکھ کر لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
میری کیوری چیریٹی کی سٹیفنی پارکر نے کہا کہ ’لوگ پریشانی کے وقت انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں، اگر معلومات غلط ہوں تو یہ نقصان دہ ہے۔‘
دی گارڈین نے کئی مثالیں پیش کیں جن میں گوگل کے اے آئی اوورویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے کی خرابیوں کے بارے میں بھی خطرناک اور غلط مشورے دیے۔ ماہرین نے کہا کہ یہ معلومات نہ صرف غلط ہیں بلکہ لوگوں کو مدد لینے سے روک سکتی ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے زیادہ تر اے آئی اوورویوز درست اور مددگار ہیں اور کمپنی معیار کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں اس طرح کی غلط معلومات لوگوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

 

شیئر: