گذشتہ ہفتے گوگل نے اپنے سرچ انجن ’کروم براؤزر‘ میں موجود متعدد سکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اپڈیٹس جاری کی ہیں۔ کمپنی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک خامی کو ہیکرز اپڈیٹس جاری ہونے سے پہلے ہی فعال طور پر استعمال کر رہے تھے تاہم گوگل نے اس وقت اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بعد ازاں جمعے کو گوگل نے اپنی ویب سائٹ پر معلومات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس خامی کی نشاندہی ایپل کی سکیورٹی انجینیئرنگ ٹیم اور گوگل کے تھریٹ اینالیسس گروپ نے کی تھی۔ یہ گروپ عام طور پر سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکرز اور کمرشل سپائی ویئر بنانے والی کمپنیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ہیکنگ مہم ممکنہ طور پر حکومت کے حمایت یافتہ ہیکرز کی جانب سے کی گئی۔‘
اسی دوران ایپل نے بھی اپنے اہم مصنوعات کے لیے سکیورٹی اپڈیٹس جاری کر دی ہیں جن میں آئی فون، آئی پیڈ، میک کمپیوٹرز، ویژن پرو، ایپل ٹی وی، ایپل واچ اور سفاری براؤزر شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہیکنگ حملوں میں سرکاری ہیکرز شامل ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: پکسابے)
آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے جاری کردہ سکیورٹی ایڈوائزری کے مطابق، ایپل نے دو خامیوں کو دور کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے علم ہے کہ ان خامیوں کو انتہائی پیچیدہ حملوں میں مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہو، خاص طور پر ان ڈیوائسز پر جو آئی او ایس 26 سے پہلے کے ورژن چلا رہی تھیں۔
ایپل کی جانب سے استعمال کی گئی یہ زبان عموماً اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی کو معلوم ہے کہ بعض صارفین زیرو ڈے حملوں کا شکار ہوئے۔ زیرو ڈے خامیاں وہ سکیورٹی نقائص ہوتی ہیں جن کے بارے میں سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کو حملے کے وقت علم نہیں ہوتا۔ ایسے حملوں میں اکثر سرکاری ہیکرز کی جانب سے تیار کردہ ٹولز اور سپائی ویئر استعمال کیے جاتے ہیں جن کا مقصد صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور حکومت مخالف افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔
ایپل اور گوگل نے اس معاملے پر فوری طور پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔