Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نادرا سمارٹ کارڈ موجود، مگر شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی اب بھی کیوں مانگی جاتی ہے؟

حکام کا کہنا ہے کہ ’نادرا شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتا ہے‘ (فائل فوٹو: نادرا)
پاکستان میں نادرا کی جانب سے جاری کیے جانے والے قومی شناختی کارڈ (سمارٹ کارڈ) میں چِپ اور کیو آر کوڈ جیسے جدید فیچرز شامل ہوتے ہیں۔
ان فیچرز کی مدد سے نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر نہ صرف کسی بھی شہری کی تصدیق کی جا سکتی ہے بلکہ مخصوص اور مجاز ڈیوائسز کے ذریعے کیو آر کوڈ اور چِپ کو سکین بھی کیا جا سکتا ہے۔
جدید سکیورٹی فیچرز کی موجودگی کے باوجود پاکستان میں عام دُکان ہو یا کوئی سرکاری یا نجی ادارہ، شہریوں سے اب بھی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی طلب کی جاتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ یا سمارٹ کارڈ میں موجود چِپ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے یہی کام زیادہ محفوظ انداز میں ممکن ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپی کو کیوں ناگزیر سمجھا جاتا ہے، اور ڈیجیٹل تصدیقی نظام کو بوقتِ ضرورت کیوں اختیار نہیں کیا جا رہا؟
یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ جب شہری کسی مخصوص کام کے لیے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرواتے ہیں تو بعض اوقات اس کے غلط استعمال کا امکان بھی ہوتا ہے۔ 
کسی بھی شہری کے شناختی کارڈ کی کاپی سے سکیمرز مختلف نوعیت کے فراڈ کر سکتے ہیں، جس کے باعث اس طرح کے واقعات سامنے آتے اور رپورٹ بھی ہوتے رہے ہیں۔
سب سے پہلے نادرا کے حوالے سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا نادرا شناختی کارڈ کے ڈیجیٹل استعمال کو فروغ دے رہا ہے؟
اس سوال کا جواب ہمیں اثبات میں ملتا ہے، کیوں کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے حالیہ عرصے میں قومی شناختی کارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
نادرا کے مطابق اگر کسی بھی شہری کے شناختی کارڈ کی ویریفیکیشن درکار ہو تو یہ عمل پاک آئی ڈی نادرا موبائل ایپ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں شہریوں کے پاس یہ ایپ موجود ہو۔
اس عمل میں صارف اپنی ڈیجیٹل آئی ڈی کھول کر دوسرے فرد کے کیو آر کوڈ کو سکین کرتا ہے، جس کے بعد شناختی کارڈ پر درج تمام پرنٹ شدہ معلومات سکرین پر آجاتی ہیں، جن میں نام، والد کا نام، رہائش اور عمر سمیت دیگر تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔

حکام کے مطابق ’شناختی کارڈ کی ویریفیکیشن پاک آئی ڈی نادرا موبائل ایپ کے ذریعے کی جا سکتی ہے‘ (فائل فوٹو: نادرا)

نادرا کے مطابق یہ طریقہ شناختی کارڈ کی کاپی جیسا ہی کام کرتا ہے اور اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ پرسن ٹو پرسن بنیاد پر ہوگا، یعنی دونوں افراد کے پاس نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ اور ڈیجیٹل آئی ڈی ہونا لازمی ہے۔
مختلف سرکاری اور نجی ادارے شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپی کے بجائے ڈیجیٹل یا سوفٹ ویریفیکیشن کو کیوں اختیار نہیں کرتے؟ اس سوال کے جواب میں نادرا حکام کا کہنا ہے کہ ’نادرا شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔‘
نادرا کے مطابق ادارے اپنی سطح پر مخصوص ڈیوائسز کے ذریعے شناختی کارڈ میں موجود چِپ اور کیو آر کوڈ کو سکین کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے انہیں اپنے بجٹ سے یہ آلات خریدنا پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر ادارے اضافی اقدامات کے بجائے شہریوں سے شناختی کارڈ کی کاپی حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
نادرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’وہ صرف ٹیکنالوجی فراہم کر سکتا ہے، تاہم دیگر اداروں کو اس کے استعمال پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔‘
نادرا کے مطابق ’2026 میں ڈیجیٹل آئی ڈی کو باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا، جب کہ پائلٹ مرحلے کے تحت پانچ لاکھ افراد کو ڈیجیٹل آئی ڈی فراہم کی جا چکی ہے۔‘

 ماہرین کہتے ہیں کہ ’کیو آر کوڈ کے ذریعے شناختی کارڈ سکین کر کے سائبر فراڈ سے بچا جا سکتا ہے‘ (فائل فوٹو: پِکسابے)

ڈیجیٹل آئی ڈی فراہم کرنے کا مقصد اس کی افادیت کا جائزہ لینا ہے اور دیگر اداروں کو ڈیجیٹل آئی ڈی کے استعمال پر کم سے کم قائل کرنا ہے۔
اسی طرح اردو نیوز نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین سے بھی بات کی کہ پاکستان میں شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپی کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ شناختی کارڈ کو ڈیجیٹلی بھی سکین کیا جا سکتا ہے۔ 
اس سوال کے جواب میں انفارمیشن اور سائبر سکیورٹی کے ماہر اور ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر ونگ عمار جعفری نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نکتہ نظر بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’تمام سرکاری اور نجی ادارے جب تک ڈیجیٹل سکیننگ کے لیے ضروری آلات حاصل نہیں کر لیتے، اس وقت تک اس نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔‘
عمار جعفری کے مطابق یہ پاکستان میں گورننس کا ایک بڑا مسئلہ ہے، کیوں کہ شہری جہاں بھی جاتا ہے وہاں اس سے شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپی طلب کی جاتی ہے، حالانکہ اگر متعلقہ مقامات پر سکینرز اور ضروری ڈیوائسز موجود ہوں تو یہی عمل ڈیجیٹلی مکمل کیا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں نادرا کو زیادہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور شناختی کارڈ کی ہارڈ کاپی کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے صرف ڈیجیٹل سکین کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘
عمار جعفری کہتے ہیں کہ ’اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کو پیپرلیس بنانے میں مدد ملے گی بلکہ سائبر فراڈ اور اس سے منسلک جرائم میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔‘

 

شیئر: