پنجاب بار کونسل نے سینکڑوں وکلا کو ٹک ٹاک پر تشہیری ویڈیو بنانے پر نوٹسز جاری کیے ہیں۔
اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین زبیح اللہ ناگرہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کونسل وکلا کے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ’جعلی تشہیر‘ کے خلاف ہے اور اس حوالے سے سینکڑوں ایسے وکیلوں کو صوبہ بھر میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس بھی معطل کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجوہات بھی کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا کے استعمال سے جڑی ہیں۔
مزید پڑھیں
رجب بٹ نے مبینہ طور اپنے کسی ولاگ میں کراچی کے کسی وکیل پر تنقید کی تو کراچی کی ضلعی عدالت میں پیشی پر وکلا کے ایک گروپ نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
تشدد کرنے والے وکلا نے بعد ازاں ایک وی لاگ میں اس کو بدلہ قرار دیا۔ چونکہ علی اشفاق رجب بٹ کے وکیل تھے اور وکلا کی عدالتی بائیکاٹ کی کال کے باوجود مبینہ طور پر اپنے گارڈز سمیت عدالت میں پیش ہونے پر کراچی بار نے پنجاب بار کونسل کو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے خط لکھا۔
یوں کونسل نے سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے تنازع میں ان کا لائسنس معطل کر دیا۔
پیر کے روز لاہور ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں میاں علی اشفاق نے اپنے لائسنس کی بحالی کے لیے رجوع کر رکھا تھا۔ عدالت نے پنجاب بار کونسل سے جواب طلب کر لیا ہے۔

پنجاب بار کونسل وکلا کے سوشل میڈیا کے استعمال اور اس سے جڑے معاملات پر اتنی خائف کیوں ہے تو اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ مہینے پیچھے جانا پڑے گا۔
پنجاب بار کونسل نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا جس کے تحت وکلا کو سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
اس اعلان نے قانونی برادری میں ہلچل مچا دی تھی اور اب تک اس پر عمل درآمد کے حوالے سے کئی سوالات اٹھے۔ اس نئے ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا کہ جو وکیل ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنائے گا اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔
ضابطہ پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1976 کے تحت جاری کیا گیا جو وکلا کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کو منظم کرتا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال قانونی معاملات پر بحث کرنے یا ذاتی پروموشن کے لیے نہیں کیا جا سکتا جو پیشے کی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔

یہ پابندی کیوں ضروری تھی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ذبیح اللہ ناگرہ کا کہنا تھا کہ ’وکالت ایک معزز پیشہ ہے یہ کونٹنٹ کریشن نہیں ہے۔ نہ ہی یہ ایکٹنگ سیکھنے کا میدان ہے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ آپ وکیل کا یونیفارم پہن کر اپنی مشہوری کرنے کے لیے الٹے سیدھے حربے استعمال نہ کریں۔ ابھی جو الیکشن ہوئے ہیں ہم نے تمام امیدواروں کی کڑی نگرانی کی۔ ان کی کمپینز کو دیکھا اور ان کے سوشل میڈیا مواد کی بھی نگرانی کی۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ وکلا کا الیکشن ٹک ٹاک پر لڑا جائے۔ اس لیے ہم ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروا رہے ہیں۔‘
تو کیا ابھی کسی وکیل ٹک ٹاکر کے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے؟ اس پر وائس چئیرمین ناگرہ کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بھرپور جائزہ لیا اور جو جو لوگ وکلا کے روپ میں کنٹنٹ بنا رہے تھے ان کو فردا فردا نوٹس بھیجے گئے۔
’ہم یہ نہیں چاہتے کہ لوگوں کے روزگار بند کریں اس لیے پہلے وارننگ لیٹر جاری کیے گئے ہیں۔ جو اب بھی باز نہ آیا تو اس کے خلاف پھر تادیبی کارروائی ہو گی۔ میں ایگزیکٹ تعداد تو نہیں بتاؤں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ہم وکلا کا ٹرائل میڈیا پر کریں لیکن سینکڑوں وکلا کو وارننگ جاری کی گئی ہے۔‘












