Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیرونِ ملک ہاؤس کیپنگ اور چائلڈ کیئر کی ملازمتیں، پاکستان میں مفت کورسز

حکام کے مطابق گزشتہ برس سات لاکھ سے زائد پاکستانی شہری بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے (فائل فوٹو: نیکسٹ جین)
خلیجی ممالک، یورپی یونین اور کینیڈا میں ہاؤس کیپنگ، بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی نگہداشت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جہاں عالمی سطح پر آبادیاتی اور سماجی تبدیلیاں لیبر مارکیٹ کو نئے انداز میں تشکیل دے رہی ہیں۔ 
تاہم اب غیرملکی آجر ان شعبوں میں کام کے لیے باقاعدہ تربیت اور سرٹیفیکیشن پر زور دے رہے ہیں جس کے باعث پاکستان کی حکومت اور نجی تربیتی ادارے مقامی ورک فورس، بالخصوص کم تعلیم یافتہ افراد، کو بین الاقوامی ملازمتوں کے لیے تیار کرنے کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یورپ اور کینیڈا میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی جبکہ خلیجی ممالک میں گھریلو معاونتی خدمات کی بڑھتی ضرورت نے تربیت یافتہ کیئر ورکرز کی مستقل طلب پیدا کر دی ہے۔
ماضی کے برعکس اب بیرونِ ملک آجر امیدواروں سے مہارتوں کے ثبوت، عملی تربیت اور بنیادی پیشہ ورانہ معیارات کی پابندی کا تقاضا کر رہے ہیں جس کے باعث ان شعبوں میں بھرتی کے لیے سرٹیفیکیشن ایک بنیادی شرط بن چکی ہے۔
ان نئے عالمی تقاضوں کے مطابق پاکستان کی افرادی قوت کو ہم آہنگ کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے خصوصی قلیل مدتی تربیتی پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں نیکس جین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اسلام آباد نے نیوٹیک کے تعاون سے سو فیصد مفت مختصر کورسز کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد پاکستانی ورکرز کو بیرونِ ملک زیادہ طلب والے نگہداشت کے شعبوں میں ملازمت کے قابل بنانا ہے۔
یہ اقدام ’ٹرین لوکل، ورک گلوبل، ارن انٹرنیشنل‘ کے عنوان کے تحت پیش کیا جا رہا ہے جو ہنر پر مبنی اوورسیز روزگار کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ کورسز مختلف ممالک میں روزگار کے مواقع کے لیے ورکرز کو تیار کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں اور ان میں تین ایسے پیشے شامل ہیں جن کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جن میں ہاؤس میڈ، بزرگوں کی دیکھ بھال کرنے والے اور بچوں کی نگہداشت کرنے والے ورکرز شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق اس پروگرام میں تین ماہ پر مشتمل کیمپس کلاسز، منظم عملی تربیت اور باقاعدہ سرٹیفیکیشن شامل ہے جو اب بین الاقوامی آجروں اور امیگریشن حکام کی جانب سے بھی لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ 
ان کورسز کے لیے اہلیت کے معیار کو اس طرح رکھا گیا ہے کہ ناخواندہ افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
چائلڈ کیئر ورکر کے کورس کے لیے کم از کم مڈل پاس ہونا ضروری ہے جبکہ دیگر کورسز بنیادی تعلیم رکھنے والے امیدواروں کے لیے کھلے ہیں۔ 
اوورسیز ورک فورس کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نیم ہنرمند اور کم تعلیم یافتہ ورکرز کو باقاعدہ لیبر ایکسپورٹ سسٹم کا حصہ بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
وزارت اوورسیز پاکستانیز کے حکام کے مطابق سرٹیفائیڈ ورکرز کے لیے بیرونِ ملک قانونی ملازمت کے معاہدے، بہتر اجرت اور کام کے محفوظ حالات حاصل کرنے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ 
ان کا کہنا ہے کہ نگہداشت کا شعبہ روایتی اوورسیز ملازمتوں کے مقابلے میں نسبتاً مستحکم طلب رکھتا ہے جس سے پاکستان کو اپنی لیبر ایکسپورٹ میں تنوع لانے اور ترسیلاتِ زر کو مضبوط بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔

غیرملکی آجر زیادہ تر تربیت یافتہ، سرٹیفائیڈ اور دستاویزی ورکرز کو ہی ترجیح دے رہے ہیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

گھریلو اور نگہداشت کے کام سے متعلق عالمی قوانین سخت ہونے کے تناظر میں حکام کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے تربیتی اور سرٹیفیکیشن پروگرام ہزاروں پاکستانی ورکرز کو بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکتے ہیں۔ جیسے جیسے مختلف ممالک تربیت یافتہ اور مستند کیئر گیورز کو ترجیح دے رہے ہیں، پاکستان کی ’ٹرین لوکل، ورک گلوبل‘ حکمتِ عملی گلف، یورپ اور شمالی امریکہ میں ابھرتے ہوئے روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
بیورو آف امیگریشن و اوورسیز ایمپلائمنٹ کے سینیئر حکام کے مطابق سرکاری سطح پر ہاؤس کیپنگ، چائلڈ کیئر اور ایجڈ کیئر جیسے شعبوں کے لیے الگ سے جامع کیٹیگری وائز اعداد و شمار مرتب نہیں کیے جاتے، تاہم بیورو کے پاس رجسٹرڈ غیرملکی ڈیمانڈ، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی رپورٹس اور جاری بھرتیوں کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ اس وقت گلف ممالک، یورپی یونین اور کینیڈا میں ان شعبوں میں کم از کم 10 سے 12 ہزار کے قریب ملازمتوں کی گنجائش موجود ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ برس سات لاکھ سے زائد پاکستانی شہری بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے جن میں ایک قابلِ ذکر تعداد گھریلو خدمات، بزرگوں اور بچوں کی نگہداشت سے وابستہ شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ 
بیورو حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان شعبوں میں ڈیمانڈ مزید بڑھنے کا امکان ہے تاہم عالمی سطح پر قوانین سخت ہونے کے باعث اب غیرملکی آجر زیادہ تر تربیت یافتہ، سرٹیفائیڈ اور دستاویزی ورکرز کو ہی ترجیح دے رہے ہیں جس کے پیشِ نظر پاکستان میں ہنرمندی اور سرٹیفیکیشن پر مبنی تربیتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

خلیجی ممالک میں گھریلو معاونتی خدمات کی بڑھتی ضرورت نے تربیت یافتہ کیئر ورکرز کی طلب پیدا کر دی ہے (فائل فوٹو: عرب نیوز)

نیکس جین انسٹیٹیوٹ کے علاوہ پاکستان میں متعدد دیگر سرکاری اور نجی ادارے بھی ہاؤس کیپنگ، بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی نگہداشت سے متعلق شعبوں میں مفت یا کم لاگت تربیتی کورسز فراہم کر رہے ہیں جن کا مقصد مقامی ورک فورس کو بین الاقوامی روزگار کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔ 
حکومتِ پاکستان کے تحت نیوٹیک ملک بھر میں ڈومیسٹک ورکر سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ہاؤس میڈ، چائلڈ کیئر ورکر اور ایجڈ کیئر گیور جیسے کورسز مکمل طور پر مفت اور سرٹیفائیڈ بنیادوں پر کروا رہا ہے۔
ان پروگرامز کے تحت مختلف شہروں میں سرکاری اور نجی تربیتی مراکز کو شامل کیا گیا ہے تاکہ کم تعلیم یافتہ اور نیم ہنر مند افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اسی طرح نیوٹیک کے تحت قلیل مدتی مفت کورسز بھی کرائے جا رہے ہیں جن کی مدت عموماً نو ہفتے ہوتی ہے اور ان میں نگہداشت، گھریلو خدمات اور ہیلتھ کیئر سپورٹ سے متعلق مہارتیں شامل کی جاتی ہیں۔ 
صوبائی سطح پر پنجاب حکومت کے ادارے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) اور پنجاب سکلز ڈیولپمنٹ فنڈ بھی مفت تربیتی پروگرام چلا رہے ہیں جن میں ہیلتھ کیئر اسسٹنٹ اور کمیونٹی سروسز جیسے کورسز شامل ہیں جو بالواسطہ طور پر کیئر گیونگ کے شعبے کے لیے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔

 

شیئر: