Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سورس کوڈ شیئر کریں‘، انڈین حکومت کے مطالبے پر موبائل ساز کمپنیاں پریشان

انڈیا میں بڑے پیمانے پر سام سنگ، شیاؤمی اور ایپل کے فونز استعمال ہو رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
انڈین حکومت نے موبائل فون بنانے والی کمپنیز سے تقاضا کیا ہے کہ وہ ملک میں بھیجے جانے والے فونز کا سورس کوڈ شیئر کریں جبکہ سکیورٹی کے پیش نظر سافٹ ویئرز میں کچھ تبدیلیوں کا کہا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین حکومت کی اس تجویز کی سام سنگ اور ایپل جیسی بڑی کمپنیز نے پس پردہ مخالفت کی ہے۔
اس ضمن میں ہونے والی بات چیت میں شامل چار افراد اور خفیہ سرکاری و صںعتی دستاویزت سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیز نے 83 سکیورٹی سٹینڈرز پر مشتمل پیکج کی مخالفت کی ہے جس میں بڑے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس سے متعلق حکومت کو آگاہ کرنا ضروری ہو گا۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی دنیا میں پہلے مثال نہیں ملتی اور اس سے ملکیتی تفصیلات ظاہر ہونے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ وزیراعظم نریندر مودی کے ان اقدامات کا حصہ ہے جو یوزر ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ دنیا کی دوسری بڑی سمارٹ موبائلز کی مارکیٹ میں آن لائن فراڈ اور ڈیٹا چوری کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اور وہاں موبائل صارفین کی تعداد تقریباً 75 کروڑ ہے۔
انڈیا کے سیکریٹری ٹیکنالوجی ایس کرشنن نے روئٹرز کو بتایا کہ ’صنعت کے کسی بھی جائز خدشے کو کھلے دل کے ساتھ حل کیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ ٹیک کپمنیز کو دی گئی تجاویز اور ان کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘
رپورٹ کے مطابق ایپل، سام سنگ، گوگل، شیاؤمی نے ردعمل دیا ہے تاہم انڈیا میں ان کی نمائندگی کرنے والے گروپ نے ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا جن میں معاملے سے متعلق سوال شامل تھے۔

انڈین حکومت انڈیا کی منظورشدہ لیبز سے سورس کوڈ کا تجزیہ کرانا چاہتی ہے (فوٹو: روئٹرز)

انڈین حکومت کی جانب سے ہونے والے مطالبات کی وجہ سے ٹیک فرمز پہلے ہی تنگ ہو چکی ہیں، پچھلے مہینے اس نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فونز پر سرکاری سیفٹی ایپ کو لازمی قرار والا حکم منسوخ کیا تھا لیکن پچھلے سال چینی جاسوسی کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی کیمروں کی سخت جانچ کو ضروری قرار دیا تھا۔
کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے اندازے کے مطابق شیاؤمی اور سام سنگ کمپنیز، جن کے فون گوگل کا اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں، بالترتیب 19 اور 15 فیصد کے شیئرز کے ساتھ انڈین مارکیٹ پر قابض ہیں جبکہ ایپل پانچ فیصد شیئرز رکھتا ہے۔
انڈین ٹیلی کام کی جانب سے سکیورٹی کے ضمن میں کیے گئے تقاضوں میں سورس کوڈ تک رسائی ایک اور حساس تقاضا ہے، یہ پروگرامنگ کی بنیادی معلومات ہیں جن کے تحت فون کام کرتا ہے۔
دستاویزات سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کا تجزیہ انڈیا کی جانب سے منظورشدہ لیبز میں کیا جائے گا۔
انڈیا کی تجاویز میں کمپنیز سے یہ تقاضا بھی کیا گیا ہے کہ سافٹ ویئرز میں ایسی تبدیلی لائیں کہ فونز میں پہلے سے انسٹال سافٹ ویئرز کو اَن انسٹال کیا جا سکے اور ایپس کو پس منظر میں کیمرہ اور مائیک استعمال کرنے سے روکا جائے اور ’بدنیتی پر مبنی استعمال سے بچا جا سکے۔‘

انڈیا میں تقریباً 75 کروڑ سمارٹ فون استعمال ہو رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

دسمبر میں جاری ہونے والے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ’انڈسٹری نے خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ عالمی سطح پر پہلے کسی بھی ملک نے سکیورٹی سے متعلق فیچرز کو لازمی قرار نہیں دیا جبکہ اس میں حکام کی جانب سے ایپل، سام سنگ، گوگل اور شیاؤمی کے نمائندگان کے ساتھ ملاقاتوں کی تفصیل بھی موجود ہے۔
دوسری جانب کمپنیز نے کہا ہے کہ سورس کوڈ کا جائزہ اور تجزیہ ’ممکن نہیں ہے۔‘
سمارٹ فون بنانے والے ادارے اپنے سورس کوڈ کو بہت خفیہ رکھتے ہیں۔
ایپل نے چین کی جانب سے 2014 اور 2015 کے درمیان کیے گئے ایسے ہی مطالبے کو رد کر دیا تھا جبکہ امریکی اداروں نے بھی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے تھے۔

شیئر: