’آرٹیمس ٹو‘ کے خلا باز زمین پر واپسی کے قریب، مگر خلائی عملے کا معاوضہ کتنا ہے؟
’آرٹیمس ٹو‘ کے خلا باز زمین پر واپسی کے قریب، مگر خلائی عملے کا معاوضہ کتنا ہے؟
ہفتہ 11 اپریل 2026 18:44
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
ناسا آئندہ برس ’آرٹیمس تھری‘ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے (فوٹو: گیٹی)
’آرٹیمس ٹو‘ مشن کے خلاباز اپنے تاریخی سفر کے بعد زمین پر واپسی کی طرف گامزن ہیں، تاہم اس غیرمعمولی مشن کے باوجود انہیں کسی قسم کا اضافی مالی بونس، اوور ٹائم یا خطرات کا معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔
فارچیون میگزین کے مطابق مشن میں شامل امریکی خلاباز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن بھی شامل ہیں۔
یہ تمام خلا باز زمین پر واپسی کے بعد اپنی سرکاری تنخواہوں پر ہی کام جاری رکھیں گے، جو امریکی عملے کے لیے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ قریباً ایک لاکھ 52 ہزار ڈالر سالانہ تک محدود ہے، جبکہ کینیڈین خلابازوں کی تنخواہیں بھی اسی طرز کے سکیل پر دی جاتی ہیں۔
چاند کے گرد ایک منفرد اور خطرناک مشن انجام دینے کے باوجود ان کی آمدنی ایک عام درمیانی کیریئر جاب، یا ہنرمند پیشوں جیسے الیکٹریشن اور ایچ وی اے سی ٹیکنیشنز کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، دیگر سرکاری ملازمین کی طرح انہیں سفر، رہائش اور کھانے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ معمولی اخراجات کے لیے قریباً پانچ ڈالر یومیہ الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شعبے میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہے۔ ناسا کی سنہ 2025 کی کلاس کے لیے آٹھ ہزار سے زائد درخواست دہندگان میں سے صرف 10 افراد کو منتخب کیا گیا، جو دنیا کی بڑی جامعات جیسے ہارورڈ یونیورسٹی اور سٹینفورڈ یونیورسٹی سے بھی زیادہ سخت مقابلہ ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت کے بڑے نام مستقبل میں خلا کو روزگار کا نیا میدان قرار دے رہے ہیں۔
ایلون مسک خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے اور چاند پر خود کفیل شہر بنانے کا خواب رکھتے ہیں، جبکہ سیم آلٹمین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں نئی نسل کے لیے خلا میں کام کرنا ایک عام بات ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سندر پچائی بھی خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے تجربات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تمام خلاباز زمین پر واپسی کے بعد اپنی سرکاری تنخواہوں پر ہی کام جاری رکھیں گے (فوٹو: ناسا)
ناسا آئندہ برس ’آرٹیمس تھری‘ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے بعد سنہ 2028 میں ’آرٹیمس فور‘ کے ذریعے دوبارہ انسان کو چاند پر اتارنے کی تیاری ہے۔ تاہم، سرکاری رپورٹس کے مطابق بڑے خلائی منصوبوں میں اوسطاً ایک سال تک تاخیر عام بات ہے۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال خلائی صنعت میں داخلے کا سب سے واضح راستہ زمین پر موجود شعبہ ایرو سپیس انجینیئرنگ ہے، جہاں ماہرین کی اوسط سالانہ آمدنی قریباً ایک لاکھ 35 ہزار ڈالر ہے اور آئندہ دہائی میں اس شعبے میں چھ فیصد اضافہ متوقع ہے۔
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ خلا کی تسخیر کا سفر جتنا شاندار ہے، اس کا مالی پہلو اتنا ہی سادہ اور زمینی حقیقت کے قریب ہے۔