چاند پر رہائش اور وسائل: آرٹیمس ٹو کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے اور یہ کب ممکن ہوگا؟
چاند پر رہائش اور وسائل: آرٹیمس ٹو کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے اور یہ کب ممکن ہوگا؟
پیر 13 اپریل 2026 15:43
گزشتہ تین دہائیوں میں تقریباً 300 افراد بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک جا چکے ہیں۔ (فوٹو: ناسا)
خلائی سفر اب تیزی سے معمول بنتا جا رہا ہے، گزشتہ تین دہائیوں میں تقریباً 300 افراد بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک جا چکے ہیں، جن میں سے بعض نے وہاں کئی ماہ تک قیام بھی کیا۔
حالیہ برسوں میں خلا کی سرحد تک مختصر دورانیے کے تجارتی سفر بھی متعارف کروائے گئے، جن میں معروف شخصیات نے حصہ لیا۔
ویب سائٹ سی نیٹ کے مطابق آرٹیمس ٹو قمری مشن اس رجحان سے یکسر مختلف ثابت ہوا۔
امریکی خلائی ادارے کا یہ مشن جو جمعہ کی شام بحفاظت زمین پر واپس آیا، چار خلا بازوں کو چاند تک اور اس سے آگے ایک طویل سفر پر لے گیا تھا۔
یہ فاصلہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے مقابلے میں تقریباً ہزار گنا زیادہ ہے، اور اس کے لیے خلا بازوں کو زمین کی کششِ ثقل سے مکمل طور پر نکلنا پڑا۔
اس نوعیت کا سفر اس سے قبل صرف دو درجن انسانوں نے کیا تھا، اور آخری بار یہ کارنامہ 1972 میں انجام پایا تھا۔
مشن کا خلائی جہاز خلا بازوں کو زمین سے دو لاکھ 52 ہزار سات سو 56 میل دو لے کر گیا جو انسانی تاریخ میں اب تک طے ہونے والا سب سے زیادہ فاصلہ ہے۔
اس دوران انہیں چاند کے اُس حصے کا واضح نظارہ بھی ملا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس نصف صدی قبل اپالو مشنز کے خلا باز چاند کی سطح سے تقریباً 70 میل کے فاصلے پر مدار میں موجود رہتے تھے۔
یہ کامیابی نہ صرف تکنیکی لحاظ سے غیر معمولی ہے بلکہ خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی علامت بھی ہے۔ اس کے باوجود لانچنگ سے قبل کئی ہفتے یہ مشن عوامی سطح پر زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکا۔
ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ زمین پر درپیش مسائل ہیں، جن میں جنگیں، سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور صحت سے متعلق خدشات شامل ہیں۔
تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے ہی حالات 1960 اور 1970 کی دہائی میں بھی موجود تھے، جب انسان نے پہلی بار چاند پر قدم رکھا تھا۔
اپالو مشن خلائی تحقیق کے پہلے دور کا نقطۂ عروج تھا، جو مسلسل کامیابیوں سے عبارت رہا۔
اب آرٹیمس مشنز ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں، جہاں توجہ محض دریافت سے آگے بڑھ کر خلا کے عملی استعمال پر مرکوز ہے۔
خلا بازوں کی چاند پر لینڈنگ 2028 کے اوائل میں متوقع ہے۔(فوٹو: ناسا)
آرٹیمس ٹو مشن میں خلا بازوں نے چاند کی سطح پر لینڈنگ نہیں کی، بلکہ یہ ایک تیاری کا مرحلہ تھا۔ منصوبے کے مطابق خلا بازوں کی چاند پر لینڈنگ 2028 کے اوائل میں متوقع ہے۔
طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت چاند پر ایک مستقل انسانی بیس قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جہاں سائنسی تحقیق، توانائی کی پیداوار اور قابلِ رہائش ڈھانچے کی تعمیر جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ ماضی میں اپالو مشنز چاند سے محدود مقدار میں پتھر اور مٹی کے نمونے لائے تھے، تاہم مستقبل میں چاند کے قدرتی وسائل جیسے معدنیات اور برف کی صورت میں موجود پانی کو استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یہ وسائل نہ صرف انسانی بقا بلکہ ایندھن کی تیاری کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس دوڑ میں نجی کمپنیاں بھی سرگرم ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ ساتھ چین، روس، انڈیا اور دیگر ممالک بھی اپنے اپنے قمری پروگرامز کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلا اور چاند کے تحفظ پر بھی غور ضروری ہے۔(فوٹو: ناسا)
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی مقابلے کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں خلائی وسائل کلیدی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
تاہم ان تمام منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے بڑے پیمانے پر تکنیکی اور مالی چیلنجز درپیش ہوں گے۔ ماضی میں بھی بھاری اخراجات کے باعث قمری مشنز کو محدود کر دیا گیا تھا۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلائی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ خلا اور چاند کے تحفظ پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے 1979 کے معاہدے کے مطابق چاند اور اس کے وسائل پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہیں، جنہیں ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔