’فوری طور پر ایران سے نکل جائیں‘، امریکہ کی اپنے شہریوں کو ہدایت
امریکی شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ زمینی راستے سے نکل جائیں۔ فوٹو: سکرین گریب
امریکہ نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایران سے نکل جائیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی تہران کے لیے ورچوئل ایمبیسی نے پیر کو جاری کیے گئے سکیورٹی الرٹ میں اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ ’فوری طور پر ایران سے نکل جائیں۔‘
الرٹ میں ایمبیسی نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ امریکی حکومت کی مدد کے بغیر وہاں سے نکلنے کی تیاری کریں۔
امریکی الرٹ میں ایران میں مظاہروں میں اضافے، ممکنہ تشدد، گرفتاریوں، انٹرنیٹ میں خلل اور حفاظتی اقدامات میں اضافے سے خبردار کیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ رابطہ یا تعلق ظاہر کرنے پر شہریوں کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ ایران دہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا اور امریکہ و ایران کی دہری شہریت رکھنے والوں کے ساتھ صرف ایرانی شہری قرار دیتا ہے۔
امریکی شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ زمینی راستے سے نکل جائیں۔ اور اگر اُن کو محفوظ لگے تو آرمینیا یا ترکی کی سرحد کے راستے ایران سے نکلیں۔ جو شہری وہاں تک نہیں جا سکتے ان سے کہا گیا کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں، مظاہروں سے دور رہیں۔ خود کو محدود رکھیں اور خوراک، پانی اور ادویات تک رسائی کو یقینی بنائیں۔
امریکہ کے ایران کے ساتھ سفارتی یا قونصلر تعلقات نہیں ہیں۔ تہران میں سوئس سفارت خانہ ہنگامی حالات میں امریکہ کے شہریوں کو مدد فراہم کا کام کرتا ہے۔
دوسری جانب چین نے کہا ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں غیرملکی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
چین کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد آیا کہ اگر تہران نے مظاہرین کو ہلاک کیا تو وہ فوجی مداخلت کرے گا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ سے نیوز کانفرنس میں جب صدر ٹرمپ کے تبصروں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہمیشہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم تمام فریقوں سے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے مزید کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
