Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گروک کا ’تصاویر کو قابل اعتراض‘ بنانے والا فیچر بند کرنے کا اعلان

گروک کا فیچر ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے تصویروں میں ایڈیٹنگ کی اجازت دیتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر صارفین کی تصاویر کو ’قابل اعتراض‘ بنانے کے فیچر پر سخت ردعمل کے بعد ’گروک‘ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس سلسلے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایلون مسک کے آن لائن پلیٹ فارم ایکس پر گروک پر کام کرنے والے مخصوص فیچر کے حوالے سے بے تحاشا شکایات سامنے آئی تھیں۔
اس کے بعد کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل راب بونٹا نے ایکس پر کام کرنے والے فیچر گروک سے متعلق تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا جبکہ متعدد ممالک کی جانب سے چیٹ بوٹ تک صارفین کی رسائی کو روک دیا ہے یا پھر اپنے طور پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ایکس اور گروک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’جہاں ایسی چیزوں کو غیرقانونی سمجھا جاتا ہے وہاں پانی کے اندر یا زیر جامہ میں بنی تصویروں کو بلاک کیا جائے گا۔‘
ایکس کی سیفٹی ٹیم کے مطابق ’گروک کے اس فیچر پر ٹیکنیکل بندش لگا دی گئی ہے جو حقیقی لوگوں کی تصویروں میں ایڈیٹنگ یا قابل اعتراض لباس میں دکھانے سے متعلق ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ بندش تمام صارفین پر لاگو ہو گی چاہے وہ پیڈ سبسکرائبر ہوں۔ تصویروں میں ایڈیٹنگ کے فیچر میں ’ایک اضافی حفاظتی پرت‘ کو شامل کیا گیا ہے۔
یورپی کمیشن جو کہ یورپی یونین کے لیے واچ ڈاگ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتا ہے، نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے ایکس پر خواتین اور بچوں کی تصاویر کی ایڈیٹنگ کے ضمن میں کچھ اضافی اقدامات کیے ہیں۔
یورپی کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنیئر کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیں گے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔‘

ایکس کے اے آئی ٹول ’سپائسی موڈ‘ کے خلاف سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایکس کے اے آئی ٹول ’سپائسی موڈ‘ کے خلاف سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے، جس پر تصویر ڈال کر محض ایک جملے کی مدد سے کپڑے ہٹانے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔
کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل راب بونٹا نے اس سے قبل کہا تھا کہ ’ایکس اے آئی کے ذریعے حالیہ ہفتوں کے دوران بنائے گئے مواد کی بے تحاشا رپورٹس حیران کن ہیں۔
’ہم اے آئی کے ذریعے بنائی گئی قابل اعتراض تصاویر کے حوالے سے زیرو ٹالرینس رکھتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسی تصاویر کو لوگوں کو ہراساں کیے جانے کی شکایات کے بعد تحقیقات میں اس امر کا تعین کیا جائے گا کہ آیا ایکس نے ریاستی قانون کی خلاف ورزی کی۔‘
اس بارے میں کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم کا کہنا ہے کہ ’ڈیپ فیک کے ذریعے قابل اعتراض تصاویر بنانے کی اجازت پر کمپنی کی جواب طلبی کی جائے۔‘

برطانیہ کا کہنا ہے کہ ایکس ملکی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے (فوٹو: ڈگ واچ)

علاوہ زیں بدھ کو سول سوسائٹی کے 28 گروپس نے ایپل اور گوگل کے سی ای اوز کے نام کھلا خط لکھا ہے کہ اپنی ڈیوائسز پر ایکس اور گروک کو بین کیا جائے۔
انڈونیشیا نے اتوار کو اس پہلے ملک کے طور پر سامنے آیا تھا جس نے گروک پر پابندی لگائی تھی اور اگلے روز پڑوسی ملک ملائیشیا نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
اسی طرح انڈیا کا کہنا ہے کہ شکایات کے بعد ایکس نے ہزاروں تصویروں اور پوسٹوں کو ہٹا دیا تھا۔
برطانیہ نے بھی پیر کو ناشائستہ تصاویر کی اجازت کے فیچر کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ایکس قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

 

شیئر: