Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران نے انڈین شہریوں کے بغیر پیشگی ویزے ملک آمد پر پابندی کیوں لگائی؟

ویزا فری سفر پہلے سے ویزا کے لیے درخواست دیے بغیر مختصر قیام کی اجازت دیتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 میں انڈیا کا پاسپورٹ 2025 کے مقابلے میں 85 ویں نمبر سے 80 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ انڈین شہریوں کے لیے بین الاقوامی سفر میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم این ڈٰی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق اعلیٰ درجہ بندی کے باوجود انڈین پاسپورٹ ہولڈرز جن مقامات پر پہلے ویزا کے بغیر داخل ہو سکتے ہیں ان کی تعداد اب 57 سے کم ہو کر 55 رہ گئی ہے۔
یہ تبدیلی دو ممالک میں داخلے کے تازہ ترین قوانین کی وجہ سے ہوئی ہے جو پہلے انڈین شہریوں کو آسان رسائی کی پیشکش کرتے تھے۔
یہ ممالک ایران اور بولیویا ہیں۔

ایران اب انڈین شہریوں کو ویزا فری داخلہ کیوں نہیں دیتا؟

ایران جانے والے انڈین شہریوں کو اب ویزا درکار ہے۔ 17 نومبر 2025 کو انڈیا کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ متعدد شہریوں کو ملازمت یا آگے کے سفر کے جھوٹے وعدوں کے تحت ویزا چھوٹ کے نظام کے ذریعے ایران جانے کے بعد دھوکہ دیا گیا تھا۔ ایسے بہت سے مسافروں کو وہاں پہنچنے پر تاوان کے لیے اغوا کر لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایران نے 22 نومبر 2025 سے عام انڈین پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری داخلہ معطل کر دیا۔
انڈین مسافروں کو اب ایران جانے یا ٹرانزٹ کرنے سے پہلے ویزا کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ حکام نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کے ذریعے ویزا فری ٹرانزٹ کی پیشکش کرنے والے ایجنٹوں سے ہوشیار رہیں۔

کیا ایران سنہ 2025 میں انڈین شہریوں کے لیے ویزا فری تھا؟

ویزا فری سفر پہلے سے ویزا کے لیے درخواست دیے بغیر مختصر قیام کی اجازت دیتا ہے۔ یہ انتظامات دوطرفہ معاہدوں یا سیاحتی پالیسیوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس کی شرائط عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں جیسے قیام کی طوالت، فنڈز کا ثبوت، اور درست سفری دستاویزات کا حامل ہونا۔
ایران گزشتہ برس تک انڈین شہریوں کو ملک میں پہنچنے پر ویزا فراہم کرتا تھا۔

بولیویا جانے والے انڈین شہریوں کو اب ’ای ویزا‘ لینا ہوگا

انڈین پاسپورٹ رکھنے والے افراد اب ای ویزا حاصل کرنے کے بعد ہی بولیویا کا سفر کرسکتے ہیں۔ گزشتہ برس تک ایسے شہریوں کو وہاں پہنچنے پر ویزا دیا جاتا تھا۔
ای ویزا آن لائن پراسیس ہے جس میں فارم پُر کر کے دستاویزات اپلوڈ کی جاتی ہیں اور الیکٹرانک فیس کی ادائیگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ منظور شدہ ویزا ڈیجیٹل طور پر بھیجا جاتا ہے اور اسے آمد کی جانچ کے لیے لے جانا ضروری ہے۔ ہینلی پاسپورٹ انڈیکس روایتی ویزا اور ای ویزا دونوں کو ’ویزا درکار‘ کے درجے میں شمار کرتا ہے کیونکہ دونوں میں سفر سے پہلے پاسپورٹ ہولڈر کے لیے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

 

شیئر: