Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چاند پر جانے کے لیے ناسا کا نیا راکٹ خلابازوں کی روانگی سے قبل لانچ پیڈ پر منتقل

اس سے قبل نومبر 2022 میں بغیر عملے کے راکٹ چاند کے گرد روانہ کیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ناسا کا نیا اور دیوہیکل راکٹ سنیچر کو فلوریڈا میں واقع کینیڈی سپیس سینٹر سے لانچ پیڈ کی جانب روانہ ہو گیا جس کے ساتھ ہی نصف صدی بعد خلابازوں کی پہلی بار چاند کے گرد پرواز کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ تاریخی مشن جلد از جلد فروری میں لانچ کیا جا سکتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 322  فٹ لمبا (98 میٹر) سپیس لانچ سسٹم راکٹ صبح کے وقت وہیکل اسمبلی بلڈنگ سے انتہائی آہستہ رفتار سے روانہ ہوا۔
چار میل طویل یہ سفر رات تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس موقع پر ہزاروں ناسا ملازمین، ان کے اہلِ خانہ اور مشن میں شامل چاروں خلاباز موجود تھے، جنہوں نے اس تاریخی لمحے کو جوش و خروش کے ساتھ دیکھا۔
11  ملین پاؤنڈ وزنی یہ راکٹ اور اس کے اوپر نصب اورین کیپسول ایک خصوصی ٹرانسپورٹر کے ذریعے منتقل کیے گئے، جو اپالو اور سپیس شٹل دور سے استعمال ہو رہا ہے اور حال ہی میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
یہ دوسرا مشن ہے، اس سے قبل نومبر 2022 میں بغیر عملے کے راکٹ چاند کے گرد روانہ کیا گیا تھا۔ ناسا حکام کے مطابق اس بار خلابازوں کی موجودگی نے مشن کو خاص اہمیت دے دی ہے۔ ابتدائی تجرباتی پرواز میں ٹمپریچر شیلڈ کو نقصان پہنچنے کے بعد تفصیلی جانچ اور مرمت کی گئی جس کے باعث یہ مشن تاخیر کا شکار رہا۔
اس دس روزہ مشن کی قیادت رِیڈ وائز مین کریں گے جبکہ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ تمام خلاباز 1972 کے بعد چاند کی جانب جانے والے پہلے انسان ہوں گے۔
ناسا فروری کے اوائل میں ایندھن بھرنے کے آخری ٹیسٹ کے بعد ہی حتمی لانچ تاریخ کا اعلان کرے گا۔

 

شیئر: