Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپل نے مصنوعی ذہانت کے لیے گوگل سے معاہدہ کیوں کیا؟

مصنوعی ذہانت کی جنگ میں سب سے مضبوط دماغ گوگل کے پاس ہے (فوٹو: روئٹرز)
ایپل نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ وہ اپنی آنے والی سری اور ایپل انٹیلی جنس خصوصیات کو تقویت دینے کے لیے گوگل کے جیمنائی اے آئی ماڈلز استعمال کرے گا۔
ویب سائٹ نائن ٹو فائیو میک کے مطابق یہ کئی سالہ معاہدہ ہے جو دنیا کی دو سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں مزید قریب لے آیا ہے اور گوگل کو اوپن اے آئی کے مقابلے میں بڑی برتری دلا سکتا ہے۔
ایپل نے سی این بی سی کے اینکر جم کریمر کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ’تفصیلی جانچ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گوگل کی ٹیکنالوجی، ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز کے لیے سب سے زیادہ طاقتور بنیاد فراہم کرتی ہے اور ہم اُن نئے تجربات کے لیے پرجوش ہیں جو یہ ہمارے صارفین کے لیے ممکن بنائے گی۔‘
گوگل نے بھی اس شراکت داری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ایپل اور گوگل کے درمیان تعاون طے پایا ہے جس کے تحت ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز کی اگلی نسل گوگل کے جیمنائی ماڈلز اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی پر مبنی ہو گی۔ یہ ماڈلز ایپل انٹیلی جنس کی آئندہ خصوصیات کو مضبوط بنائیں گے جن میں اس سال آنے والی زیادہ ذاتی نوعیت کی  سریبھی شامل ہے۔‘
ایپل انٹیلی جنس بدستور ایپل کے ڈیوائسز اور پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ پر ہی چلے گا اور ایپل کی اعلیٰ ترین پرائیویسی پالیسی برقرار رہے گی۔
یہ معاہدہ گوگل کے لیے سٹریٹیجک فتح ہے کیونکہ ایپل کے پاس دنیا بھر میں دو ارب سے زائد فعال ڈیوائسز ہیں۔ اس سے پہلے گوگل کی اے آئی ٹیکنالوجی سام سنگ کے گیلیکسی اے آئی میں استعمال ہو رہی تھی، مگر سری کا معاہدہ اسے ایک اور بہت بڑی عالمی رسائی دے گا۔
ایپل اس ڈیل کے لیے اوپن اے آئی کے ساتھ بھی مقابلے میں تھا۔ ایپل نے 2024 میں چیٹ جی پی ٹی کو سری میں شامل کیا تھا تاکہ مشکل سوالات کے لیے اوپن اے آئی کی مدد لی جا سکے، اور جیمنائی کے آنے کے بعد بھی چیٹ جی پی ٹی کو مکمل طور پر ہٹایا نہیں جا رہا۔ تاہم اب بنیادی ذہانت کا کردار گوگل کے پاس چلا گیا ہے جبکہ چیٹ جی پی ٹی صرف مخصوص اور اختیاری سوالات کے لیے استعمال ہو گا۔


ایپل انٹیلی جنس کو متعارف کروائے جانے کے بعد ہی صارفین کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا (فوٹو: اے ایف پی)

تحقیقی ادارے اکوئی سائٹس کے سی ای او پارتھ تلسانیا کے مطابق ’ایپل کا جیمنائی کو سری کے لیے منتخب کرنا اوپن اے آئی کو ایک ثانوی کردار میں دھکیل دیتا ہے۔ اب اصل ذہانت کا مرکز گوگل ہو گا جبکہ چیٹ جی پی ٹی صرف اضافی سہولت کے طور پر باقی رہے گا۔‘
بلومبرگ کے مطابق ایپل اس رسائی کے بدلے گوگل کو تقریباً ایک ارب ڈالر سالانہ ادا کرے گا، اور نئی سری کو چلانے کے لیے ایک 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل انتہائی طاقتور اے آئی ماڈل استعمال کیا جائے گا۔ تاہم ایپل اور گوگل نے ان مالی اور تکنیکی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایپل اپنی اے آئی حکمتِ عملی پر دباؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ ڈبلیو ڈبلیو ڈی سی 2024 میں ایپل نے ایپل انٹیلی جنس کا اعلان کیا تھا، جس میں نوٹیفکیشن سمریز، رائٹنگ ٹولز، ایمج پلے گراؤنڈ، جین موجی اور نئی سری جیسی خصوصیات شامل تھیں مگر جدید سری کی لانچ تاخیر کا شکار ہو گئی تھی۔ ایپل نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ان فیچرز کو مکمل کرنے میں توقع سے زیادہ وقت لے رہا ہے۔
گوگل نے اوپن اے آئی کی برتری توڑنے کے لیے اے آئی ماڈلز، امیج اور ویڈیو جنریشن میں جارحانہ سرمایہ کاری کی ہے۔ جیمنائی 3 کے بعد اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے اپنی ٹیموں کے لیے ’کوڈ ریڈ‘ جاری کیا تھا تاکہ رفتار تیز کی جا سکے۔

دوسری جانب ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے گوگل اور ایپل کی شراکت داری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ گوگل کے لیے طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے، کیونکہ اس کے پاس پہلے ہی اینڈرائیڈ اور کروم جیسے بڑے پلیٹ فارم موجود ہیں۔‘
یہ معاہدہ ایپل اور گوگل کے اس پرانے تعلق کا تسلسل ہے جس کے تحت گوگل ایپل ڈیوائسز پر ڈیفالٹ سرچ انجن ہے، ایک ایسا انتظام جو ایپل کو ہر سال کئی ارب ڈالر کما کر دیتا ہے۔
اس خبر کے بعد گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیو چار ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اس کے حصص گزشتہ سال 65 فیصد بڑھ چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کا اے آئی پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔
تاہم ایپل نے بالآخر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی جنگ میں اس وقت سب سے مضبوط دماغ گوگل کے پاس ہے اور مستقبل کی سری اب اسی دماغ سے چلے گی۔

شیئر: