پی سی بی کا ملتان سلطانز کو پی ایس ایل 11 سے پہلے فروخت کرنے پر غور، کتنے میں بک سکتی ہے؟
پی سی بی کا ملتان سلطانز کو پی ایس ایل 11 سے پہلے فروخت کرنے پر غور، کتنے میں بک سکتی ہے؟
اتوار 11 جنوری 2026 16:27
ملتان سلطانز نے سنہ 2021 کا پی ایس ایل جیت رکھا ہے (فوٹو: پی ایس ایل)
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ملتان سلطانز کو جلد از جلد فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق پی سی بی اپنی سابقہ پالیسی پر نظرثانی کر رہا ہے جس کے تحت ملتان سلطانز کو پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کے بعد فروخت کیا جانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اب اس بات پر مشاورت ہو رہی ہے کہ فرنچائز کو ٹورنامنٹ سے قبل ہی فروخت کر دیا جائے۔ اس تجویز کو پی سی بی اور پی ایس ایل کے سینئر حکام کی حمایت حاصل ہے تاہم حتمی منظوری چیئرمین محسن نقوی کو دینا ہوگی۔
حال ہی میں پی سی بی کی ساتویں اور آٹھویں ٹیم کی اچھی قیمت پر فروخت ہونے کے بعد پی سی بی اور پی ایس ایل حکام ملتان سلطانز کو بیچنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ آٹھ جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے نیلامی میں حیدر آباد کی ٹیم 1.75 ارب روپے جبکہ سیالکوٹ کی ٹیم 1.85 ارب روپے میں فروخت ہوئی جو پی سی بی کی توقعات سے بہت زیادہ تھی۔
حکام کا خیال ہے کہ یہ ماحول ملتان سلطانز کی فروخت کے لیے نہایت موزوں ہے کیونکہ یہ ایک قائم شدہ فرنچائز ہے جو آٹھ سیزنز کھیل چکی ہے اور 2021 میں پی ایس ایل کا ٹائٹل بھی جیت چکی ہے۔ اسی وجہ سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ملتان سلطانز کی فروخت سب سے زیادہ قیمت پر ہو سکتی ہے۔
حالیہ نیلامی کے بعد پریس کانفرنس میں پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین سے کہا تھا کہ ’سٹیج سج چکا ہے، ملتان کو بھی نیلام کر دیتے ہیں،‘ تاہم محسن نقوی نے جواب دیا کہ وہ خود ملتان سلطانز کو چلا کر منافع بخش ثابت کرنا چاہتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ پی سی بی اس سال پی ایس ایل کے دوران ملتان سلطانز خود چلائے گا اور ٹورنامنٹ کے فوراً بعد فرنچائز نیلام کی جائے گی، لیکن اب تک کوچ یا انتظامی عملے کی تقرری کا اعلان نہیں ہو سکا ہے۔
علی ترین ملتان سلطانز کے سابق مالک ہیں (فوٹو: یوٹیوب سکرین گریب)
پی سی بی کے مطابق پی پی آر اے قوانین کے باعث ملتان سلطانز کو نئی ٹیموں کے ساتھ نیلام نہیں کیا جا سکا تھا کیونکہ سابق مالک علی ترین کی ملکیت 31 دسمبر کو ختم ہوئی تھی۔
پی ایس ایل 26 مارچ سے شروع ہو رہا ہے جبکہ تاحال پلیئر ڈرافٹ یا نیلامی سے متعلق کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس وقت فرنچائزز کے کھلاڑی برقرار رکھنے اور سکواڈ کی تشکیل کے طریقہ کار پر بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
حکام یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر فرنچائزز سرمایہ کاری واپس حاصل نہ کر سکیں تو مارکیٹ میں مندی آ سکتی ہے۔ ماضی میں بھی ملتان سلطانز اس تجربے سے گزر چکی ہے۔
سنہ 2018 میں ملتان سلطانز کو ’سوچوں گروپ‘ نے خریدا تھا تاہم مالی خسارے کے بعد صرف ایک سال بعد ہی انہوں نے ٹیم چھوڑ دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے تاہم اگر پی سی بی نے پی ایس ایل سے قبل فروخت کا فیصلہ کیا تو اسے یہ عمل انتہائی تیزی سے مکمل کرنا ہوگا۔