سینیٹ آف پاکستان میں مسلم ممالک کے خلاف ’انڈیا، اسرائیل اتحاد‘ کے خلاف قرارداد منظور
ایوان نے اس بیان کو نہ صرف مسلم دنیا کے خلاف صف بندی قرار دیا بلکہ اسے خطے میں مزید تقسیم اور کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش بھی قرار دیا۔ (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے ایوانِ بالا نے اسرائیل اور انڈیا کے ممکنہ علاقائی اتحاد اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری صورتِ حال کے خلاف متفقہ طور پر سخت مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔
قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور خطے میں ایک نئے عسکری و سیاسی اتحاد کے قیام کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
منگل کو ہونے والے سینیٹ اجلاس کی صدارت پریذائیڈنگ آفیسر قرۃ العین مری نے کی۔ سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے متن میں 22 فروری 2026 کو اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا، جس میں انڈیا اور دیگر ممالک پر مشتمل ایک علاقائی اتحاد بنانے کے ارادے کا اظہار کیا گیا تھا۔
ایوان نے اس بیان کو نہ صرف مسلم دنیا کے خلاف صف بندی قرار دیا بلکہ اسے خطے میں مزید تقسیم اور کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش بھی قرار دیا۔
سینیٹ نے اسرائیلی قیادت کے اس طرزِ عمل کو ’امتِ مسلمہ کے اتحاد اور سالمیت کو سیاسی و نظریاتی بنیادوں پر کمزور کرنے کی مذموم کوشش‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں، مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد کی حوصلہ افزائی اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جیسے اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایوان نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پر حملہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور بین الاقوامی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
سینیٹ نے اسرائیلی قیادت کے ان بیانات اور اقدامات کی بھی مذمت کی، جنہیں قرارداد میں ’اشتعال انگیز اور امن کو خطرے میں ڈالنے والے‘ قرار دیا گیا۔ قرارداد میں اس امر پر بھی سخت اعتراض کیا گیا کہ اسرائیل بعض مسلم ممالک کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس ضمن میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے مبینہ ’صومالی لینڈ‘ خطے کی آزادی کو تسلیم کرنے کے اعلان کو بھی مسترد کیا گیا۔
ایوان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم پر جواب دہ بنائے اور اسے حاصل استثنیٰ کا خاتمہ یقینی بنائے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا کرے، غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کی بلاتعطل، پائیدار اور آزادانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اقوامِ متحدہ کے ذریعے امدادی سرگرمیوں کو تقویت دی جائے۔ ساتھ ہی غزہ میں بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کے فوری آغاز پر بھی زور دیا گیا۔
سینیٹ نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاریخی اور غیر متزلزل طور پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
