Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کر دیا

جارجیا میلونی کہنا تھا کہ حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے (فوٹو: گیٹی)
اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید معطل کر دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
جورجیا میلونـی کی دائیں بازو کی حکومت یورپ میں اسرائیل کی قریبی حلیف سمجھی جاتی رہی ہے، تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران اس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں پر تنقید کی ہے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے تحت تعینات اطالوی فوجیوں پر وارننگ شاٹس بھی فائر کیے، جس سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔
جورجیا میلونی نے شمالی اٹلی کے شہر ویرونا کے دورے کے دوران کہا کہ ’موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ پیر کو وزیر خارجہ انتونیو تاجانی، وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو اور نائب وزیراعظم میٹیو سالوینی کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اپوزیشن کا مطالبہ

جورجیا میلونـی کے اس اعلان کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ اسرائیل کے حوالے سے ان کے محتاط مؤقف میں واضح تبدیلی ہے۔ اپوزیشن پہلے ہی اس معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کر رہی تھی۔
سینٹر لیفٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما ایلی شلائن نے کہا کہ ’ہم کافی عرصے سے اس اقدام کا مطالبہ کر رہے تھے، دیگر ترقی پسند قوتوں کے ساتھ مل کر۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اٹلی کو یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی معطلی کی بھی حمایت کرنی چاہیے۔‘
یہ معاہدہ سنہ 2003 میں سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کے دور میں طے پایا تھا اور سنہ 2006 میں نافذ ہوا۔ اس کی ہر پانچ سال بعد خودکار تجدید ہوتی ہے، جب تک کہ کوئی ایک فریق اسے ختم نہ کر دے۔
اس معاہدے کے تحت اٹلی اور اسرائیل کے درمیان دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تعاون کیا جاتا ہے، جس میں اسلحہ کی خریداری، تربیت اور فوجی ساز و سامان کی درآمد، برآمد اور ترسیل شامل ہے۔
سفارتی کشیدگی میں اضافے کے بعد اٹلی نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا تھا تاکہ لبنان میں پیش آنے والے واقعے پر احتجاج کیا جا سکے۔ اس کے جواب میں پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے اطالوی سفیر کو طلب کر کے لبنان کی صورتحال پر بات چیت کی۔

شیئر: