امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو ہو سکتا ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی منگل کو مزید اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق تہران نے خطے بھر میں اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، جبکہ پاکستان نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کو مزید مذاکرات کے لیے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگرچہ گزشتہ ہفتے ہونے والی جنگ بندی بظاہر برقرار ہے، تاہم آبنائے ہرمز پر تنازع دوبارہ لڑائی بھڑکنے اور خطے میں جنگ کے معاشی اثرات کو مزید گہرا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوا، گذشتہ ہفتے کے آخر میں کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، تاہم پاکستان نے آنے والے دنوں میں دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
پاکستانی حکام نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ ابتدائی مذاکرات ایک مسلسل سفارتی عمل کا حصہ تھے نہ کہ کوئی ایک وقتی کوشش۔
امریکی حکام نے پیر کو کہا کہ نئے مذاکراتی دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک کے سفارتکار کے مطابق تہران اور واشنگٹن اس پر متفق ہو چکے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں، تاہم مقام، وقت اور وفود کی تشکیل ابھی طے نہیں ہوئی۔ اسلام آباد اور جنیوا کو ممکنہ میزبان شہروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ جنگ، جو اب ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، عالمی معیشت کو ہلا چکی ہے کیونکہ بحری نقل و حمل متاثر ہوئی ہے اور فضائی حملوں نے خطے بھر میں فوجی اور شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس لڑائی میں ایران میں کم از کم تین ہزار افراد، لبنان میں دو ہزار سے زائد، اسرائیل میں 23 اور خلیجی عرب ممالک میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت
یہ محاصرہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے، جس نے جنگ کے آغاز سے اب تک لاکھوں بیرل تیل، زیادہ تر ایشیا کو برآمد کیا ہے۔ اس کا بڑا حصہ ممکنہ طور پر خفیہ طریقوں سے منتقل کیا گیا تاکہ پابندیوں اور نگرانی سے بچا جا سکے، جو ایران کے لیے اہم مالی ذریعہ رہا ہے۔
محاصرے کے نفاذ کی نوعیت اور جہازوں کی پابندی کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں۔ پیر کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے کچھ جہاز واپس مڑ گئے، تاہم ایک جہاز نے دوبارہ رخ موڑ کر منگل کی صبح گزرگاہ عبور کی۔
جنگ کے آغاز سے ایران نے بحری نقل و حرکت محدود کر دی ہے، اور زیادہ تر تجارتی جہاز اس راستے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش، جہاں سے زمانہ امن میں دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتاہے، سے پٹرول، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کی بحریہ ’مکمل طور پر تباہ‘ ہو چکی ہے، تاہم اس کے پاس اب بھی ’تیز رفتار حملہ آور کشتیاں‘ موجود ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی جہاز امریکی محاصرے کے قریب آیا تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
ایران نے خبردار کیا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خلیج کے ساحلی علاقوں کو نشانہ بنائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر تم لڑو گے تو ہم بھی لڑیں گے۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، خاص طور پر ایران سے جوہری مواد کے خاتمے اور مستقبل میں یورینیم افزودگی روکنے کے طریقہ کار پر۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ ہماری طرف آئے ہیں۔‘ تاہم ان کا خیال تھا کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدہ کرنے کے لیے مکمل اختیار نہیں رکھتے اور انہیں تہران سے منظوری درکار ہے۔