’دی ہنڈرڈ‘ لیگ میں ’سب کی شرکت‘، پاکستانی کھلاڑیوں کو باہر نہیں رکھا جائے گا: انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ
’دی ہنڈرڈ‘ لیگ میں ’سب کی شرکت‘، پاکستانی کھلاڑیوں کو باہر نہیں رکھا جائے گا: انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ
بدھ 25 فروری 2026 17:22
فرنچائزز نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ دی ہنڈرڈ دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو پیش کرے۔‘ فائل فوٹو: اے ایف پی
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور ’ہنڈرڈ‘ لیگ میں شامل تمام آٹھ ٹیموں نے مشترکہ طور پر اصرار کیا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ’سب کی شرکت کے لیے کھُلا‘ ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان ’ہنڈرڈ‘ میں شامل ایسی ٹیمیں جن کے مالکان انڈین شہری ہیں وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنے پر غور نہیں کریں گے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ ہنڈرڈ لیگ میں شامل مانچسٹر سُپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز مارچ میں کھلاڑیوں کی خریداری کے وقت کسی بھی پاکستانی کرکٹر کے نام پر غور نہیں کریں گے۔
تاہم اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس دوران ای سی بی نے اتوار کو آٹھوں فرنچائز کو ایک ای میل بھیجی جس میں انہیں متنبہ کیا گیا کہ قومیت کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے سمیت امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت ملنے پر کارروائی کی جائے گی۔
پاکستان سے کُل 67 پاکستانی کھلاڑیوں نے ہنڈرڈ لیگ کے لیے اپنے نام جمع کرائے ہیں۔ ان میں 63 مرد اور چار خواتین کھلاڑی ہیں۔
منگل کی شام ہنڈرڈ اور اس کی آٹھ ٹیموں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور دی ہنڈرڈ ٹیم کی تمام آٹھ فرنچائزز دی ہنڈرڈ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ ایک ایسا مقابلہ ہو جس میں سب کو حصہ لینے پر خوش آمدید کہا جائے۔‘
’دی ہنڈرڈ‘ کا قیام نئے شائقین تک پہنچنے، کرکٹ کے کھیل کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا کہ ہر کوئی خواہ کسی بھی نسل، جنس، عقیدے یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو، یہ محسوس کرے کہ وہ ہمارے کا حصہ ہیں۔ یہ شروع سے ہی ایک رہنما اصول رہا ہے اور ہمارے ہر کام اسی کے گرد رہتا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’ٹورنامنٹ کو چلانے کے لیے ذمہ دار انتظامیہ کے طور پر ای سی بی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں، اور اس طرح کے کسی بھی طرز عمل سے نمٹنے کے لیے سخت کارروائی کرنے کے لیے ضابطے موجود ہیں۔ کھلاڑیوں کو ان کی قومیت کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
پاکستان سے کُل 67 پاکستانی کھلاڑیوں نے ہنڈرڈ لیگ کے لیے اپنے نام جمع کرائے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تمام آٹھ ٹیمیں کھلاڑیوں کا صرف کرکٹ کارکردگی، دستیابی اور ہر ٹیم کی ضروریات کی بنیاد پر انتخاب کا عہد کرتی ہیں۔ یہ ای سی بی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کرکٹ کو سب سے زیادہ جامع کھیل بنانے، مواقع پیدا کرنے، رکاوٹوں کو ختم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے پاس کھیل میں اوپر تک جانے کا ایک منصفانہ اور مساوی راستہ ہو۔‘
فرنچائزز نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ دی ہنڈرڈ دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو پیش کرے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فعال طور پر کام جاری رکھیں گے کہ ٹیموں میں سب کی شمولیت ایک معیار ہے۔‘
پاکستانی کھلاڑیوں کو باہر رکھنے کی خبروں پر انگلش ٹی20 ٹیم کے کپتان ہیری بروک نے کہا تھا کہ ایسا کرنا شرمناک ہوگا جبکہ سابق کپتان مائیکل وان نے ای سی بی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔