ٹی20 کرکٹ آگے بڑھ چکی ہے، بابر اعظم ورلڈ کلاس ہیں لیکن انہیں خود کو ڈھالنا ہوگا: فاف ڈو پلیسی
جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلیسی نے پاکستانی بیٹر بابر اعظم کو ’ورلڈ کلاس کھلاڑی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سٹرائیک ریٹس کے معاملے میں ان کے پیچھے رہنے کی وجہ تیز رفتار ٹی20 کرکٹ ہے۔
ڈو پلیسی نے کرک انفو کے شو ’ٹائم آؤٹ‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ بابر اعظم اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو اس معاملے پر کھل کر بات کرنی چاہیے تاکہ ٹی 20 کرکٹ میں بابر اعظم کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تمام بڑے کھلاڑی اپنے کیریئر کے دوران حصوں میں بدلتے ہیں، ہم بابر اعظم کو دنیا کے عظیم کھلاڑیوں میں شمار کرتے ہیں تاہم ٹی 20 کرکٹ اس تیزی سے آگے بڑھی ہے کہ وہ اس کے سٹرائیک ریٹ کی مناسبت سے تھوڑے پیچھے رہ گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’کچھ مشکل مرحلوں پر 120 سے 130 سٹرائیک ریٹ کا کھلاڑی کردار ادا کر سکتا ہے مگر اب کھیل اس قدر تیزی سے آگے بڑھ چکا ہے کہ آپ کو 160 سے 190 یا پھر 200 تک سٹرائیک ریٹ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ پہلے چھ اوورز کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے موجودہ میچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کی سست پچوں پر بابر زیادہ اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں، ایسی وکٹس زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں اس لیے بابر اعظم کو مڈل میں کھلانا زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔‘
پاکستان کے بیٹر بابر اعظم اپنی ماضی کی کارکردگی کی بدولت بہت نام کما چکے ہیں تاہم کچھ عرصے سے ان کو تنقید کا بھی سامنا ہے جس میں موجودہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے علاوہ کچھ دیگر میچوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔
ایسی ہی کارکردگی کی بنا پر ان کو ایشیا کپ کی ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا اور مائیک ہیسن نے کہا تھا کہ ان کو اپنے کھیل کے انداز اور سٹرائیک ریٹ پر کام کرنا ہو گا، تاہم اس کے کچھ روز بعد ہی ان کو ٹیم میں پھر شامل کر لیا گیا تھا۔
ڈو پلیسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بابر اعظم کے لیے اپنے کھیل کو مزید بہتر بنانا مشکل ہے کیونکہ ان کی عمر اور تجربہ بڑھ چکا ہے۔
31 سال کی عمر میں بابر پاکستان کے سب سے طویل عرصے تک ٹی20 کپتان رہے ہیں اور انہوں نے 144 ٹی20 اور 347 ٹی20 میچز کھیلے ہیں۔
ڈو پلیسی نے اپنے کھیل کے تجربات سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ خود سے سوال پوچھتے ہیں کہ ’جب یہ طریقہ کار کام کر رہا ہے تو اسے کیوں بدلا جائے لیکن دوسری جانب یہ آواز بھی آتی ہے کہ اس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اس پر کام کرو۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ عمل تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جو کچھ آپ کر رہے ہوتے ہیں وہ آپ کے کیریئر میں نیا ہوتا ہے، یہ چیز مشکل ہوتی ہے لیکن آگے بڑھنے کے لیے ضروری بھی۔
ان کے مطابق اس پر کوچ اور بیٹر کے درمیان بات ہونی چاہیے تاکہ ان کی صلاحیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔