Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اداکارہ میناکشی کا 30 سال بعد فلموں میں واپسی کا اعلان، کیا جادو جگا سکیں گی؟

اداکارہ میناکشی نے تقریباً 30 سال فلمی دنیا سے دور گزارنے کے بعد ایک بار پھر فلموں میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے (فوٹو: شوگرمنٹ)
یہ 1982-83کی بات ہے جب بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار اور فلم ساز منوج کمار نے ایک نوخیز لڑکی کو اپنی فلم ’پینٹر بابو‘ میں موقع دیا تھا۔ یہ فلم تو کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس فلم کی اداکارہ نے آنے والے دنوں میں انڈین فلم انڈسٹری میں دھوم مچا دی۔
ممبئی کی مایا نگری نے جب ان کے لیے اپنے دروازے کھولے تو کلا (فن) کی دیوی ان پر مہربان تھی تو اس اداکارہ نے اپنے مستقبل کے بارے میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس کا تصور اس دور میں شاید ہی کسی کامیاب دوسرے فلمی ستارے نے کیا ہو۔
شہرت، دولت اور کامیابی ان کے قدم چوم رہی تھی، مگر انہوں نے ان سب کے مقابلے میں خاندان اور ذاتی زندگی کو ترجیح دی۔ یہ اداکارہ کوئی اور نہیں بلکہ میناکشی شیشادری ہیں جن کا نام آج بھی ہندی سنیما کی تاریخ میں وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے تقریباً 30 سال فلمی دنیا اور انڈیا سے دور گزارنے کے بعد نہ صرف واپس انڈیا کا رُخ کیا بلکہ ایک بار پھر فلموں میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس طویل غیر حاضری کے بعد اپنی نئی پہچان بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں؟
ویسے تو کئی اداکاراؤں نے خود کو نئے انداز سے ہم آہنگ کیا ہے ہے، جن میں 60 کی دہائی کی اداکارائیں شرمیلا ٹیگور اور وحیدہ رحمان اور 90 کی دہائی کی کاجول اور سشمیتا سین شامل ہیں جنھوں نے کامیاب واپسی کی ہے۔
گذشتہ ماہ میناکشی نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی آمد کا اعلان کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ’میرے انسٹاگرام خاندان کو میرا پُرخلوص نمسکار۔ میں آپ سب کی محبت، حوصلہ افزائی اور مسلسل حمایت کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ 30 برس بعد میں اپنی کرم بھومی ممبئی واپس آگئی ہوں اور امید، جذبے اور مثبت سوچ کے ساتھ ایک بار پھر تفریح کی دنیا میں قدم رکھ رہی ہوں۔‘
'کون جانے کسی کی دعاؤں سے مجھے اچھا موقع مل جائے۔'
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’میں بامعنی اور پراثر مواقع کی منتظر ہوں، چاہے وہ مرکزی کردار ہو، معاون کردار ہو یا مختصر رول ہو، میرے لیے کردار کا موثر ہونا زیادہ اہم ہے۔ میں فلموں اور او ٹی ٹی دونوں میں ایسے کردار کرنا چاہتی ہوں جو ایک فنکار کے طور پر مجھے چیلنج کریں اور میری صلاحیتوں کے نئے پہلوؤں کو سامنے لائیں۔‘
خیال رہے کہ حال ہی میں سشمیتا سین نے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ’نیا اوتار‘ میں واپسی کی ہے۔ ایسے میں میناکشی سے بھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔
میناکشی کی پوسٹ کے جواب میں ان کے مداحوں نے نہایت گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔ بیشتر تبصروں میں ان کی فلموں، رقص اور اداکاری کی یادیں تازہ کی گئیں اور انہیں دوبارہ پردۂ سیمیں پر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ کو ڈھیروں مبارکباد۔ ہم جلد ہی آپ کو دوبارہ فلموں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کی واپسی کا بے صبری سے انتظار ہے۔‘
ایک دوسرے نے لکھا کہ ’آپ ہماری پسندیدہ اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ 'دامنی' اور 'ہیرو' آج بھی یادگار ہیں۔ آپ کو دوبارہ سکرین پر دیکھنا خوشگوار ہوگا۔‘

میناکشی نے کلاسیکی رقص کی باقاعدہ تربیت حاصل کی (فوٹو: فرسٹ پوسٹ)

البتہ چند لوگوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ بالی وڈ میں عمر رسیدہ اداکاراؤں کے لیے معیاری کردار محدود ہیں، لیکن اس کے باوجود اکثریت نے ان کی واپسی کو خوش آئند قرار دیا اور  نیک خواہشات پیش کیں۔
میناکشی کا سفر
16 نومبر 1963 کو جھارکھنڈ کے شہر سندری میں پیدا ہونے والی میناکشی کا اصل نام ششی کلا شیشادری تھا۔ ان کے والد سرکاری ملازم تھے اور خاندان کا ماحول تعلیم و تہذیب سے آراستہ تھا۔ وہ کم عمری ہی سے کلاسیکی رقص میں گہرا شغف رکھتی تھیں۔
انہوں نے بھارتی ناٹیم، کتھک، کچی پوڑی اور اوڈیسی جیسی رقص کی مختلف اصناف کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ یہی فن بعد میں ان کی فلمی شناخت کا ایک اہم حصہ بن گیا۔
سنہ 1981 میں محض سترہ برس کی عمر میں انہوں نے مقابلہ حسن میں ’ایو آف انڈیا‘ کا خطاب جیتا۔ اس کامیابی نے ان پر فلمی دنیا کے دروازے کھول دیے۔
فلم ساز منوج کمار نے انہیں اپنی فلم ’پینٹر بابو‘ میں موقع دیا۔ یہ فلم اگرچہ زیادہ کامیابی حاصل نہ کرسکی، لیکن میناکشی کی خوبصورتی اور سکرین پریزنس نے فلمی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول ضرور کرائی۔
اصل کامیابی اسی سال یعنی 1983 میں اس وقت آئی جب ہدایت کار سبھاش گھئی نے انہیں فلم ’ہیرو‘ میں جیکی شیروف کے مقابل کاسٹ کیا۔ فلم نے باکس آفس پر دھوم مچا دی اور میناکشی راتوں رات ملک کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔ اس فلم کا گیت ’تو میرا جانو، تو میرا دلبر‘ نوجوان دلوں کی آواز بن گیا لیکن پھر میری جنگ کا گیت ’زندگی ہر قدم اک نئی جنگ ہے‘ نے میناکشی کا دوسرا روپ پیش کیا۔
کہا جاتا ہے کہ فلم ’ہیرو‘کامیابی کے بعد ان کے گھر کے باہر مداحوں کی قطاریں لگ جاتی تھیں۔ اس زمانے میں نوجوان لڑکیاں ان کے لباس اور انداز کی نقل کیا کرتی تھیں۔

اداکارہ کی فلم ’گھایل‘ میں سنی دیول کے مقابل موجودگی نے کہانی کو جذباتی گہرائی عطا کی (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)

سنہ 1980 کی دہائی کے وسط تک میناکشی ہندی فلموں کی صفِ اول کی اداکارہ بن چکی تھیں۔ انہوں نے فلم ’میری جنگ‘ میں انیل کپور کے ساتھ کام کیا اور اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناقدین کو متاثر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’انعام دس ہزار‘، ’شہنشاہ‘  اور  ’پریوار‘ جیسی فلموں میں بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا۔
امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ’شہنشاہ‘ میں ان کی جوڑی کو خاصی پذیرائی ملی۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک دلچسپ واقعہ مشہور ہے۔ ایک منظر کی عکس بندی کے لیے کئی بار ری ٹیک کرنا پڑا۔ یونٹ کے ارکان قدرے پریشان ہوگئے، لیکن میناکشی نے نہایت صبر اور خوش مزاجی سے ہر بار منظر دہرایا۔ ان کی پیشہ ورانہ سنجیدگی کی وجہ سے ہدایت کار اکثر ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔
نوّے کی دہائی میں جب ایکشن فلموں کا رجحان بڑھ رہا تھا، میناکشی نے خود کو صرف ہیروئن کے دائرے تک محدود نہیں رکھا۔ فلم ’گھایل‘ میں سنی دیول کے مقابل ان کی موجودگی نے کہانی کو جذباتی گہرائی عطا کی۔ تاہم ان کے فلمی سفر کا سب سے یادگار سنگ میل 1993 میں آنے والی فلم ’دامنی‘ ثابت ہوئی۔
’دامنی‘ صرف ایک فلم نہیں تھی بلکہ عورت کی آواز اور انصاف کی جدوجہد کی علامت بن گئی۔ میناکشی نے ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا جو اپنے ہی خاندان کے خلاف سچ بولنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
اس کردار میں ان کی اداکاری اتنی مؤثر تھی کہ آج بھی ناقدین اسے ہندی سنیما کے طاقتور ترین نسوانی کرداروں میں شمار کرتے ہیں۔ فلم کا مشہور مکالمہ اور اس کی عدالتی کارروائیاں آج بھی فلمی تاریخ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
’دامنی‘ کے لیے میناکشی کو بے شمار اعزازات اور نامزدگیاں ملیں اور ان کی فنی صلاحیتوں کا اعتراف پورے ملک میں کیا گیا۔
اداکاری کے ساتھ ساتھ رقص بھی ان کی شخصیت کا اہم جزو تھا۔ فلم ’جرم‘ میں ونود کھنہ کے ساتھ ان کا گیت ’جب کوئی بات بگڑ جائے، جب کوئی مشکل پڑجائے‘ آج بھی اس بالی وڈ کے بہترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شوٹنگ کے مصروف ترین دنوں میں بھی رقص کی مشق ترک نہیں کرتی تھیں۔

کچھ فلم بینوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ بالی وڈ میں عمر رسیدہ اداکاراؤں کے لیے معیاری کردار محدود ہیں (فوٹو:Flickr)

انہوں نے فلمی کیریئر کے عروج پر ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کردیا۔ 1995 میں انہوں نے سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ہریش میسور سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد وہ امریکہ منتقل ہوگئیں۔ اس وقت ان کے پاس کئی بڑی فلموں کی آفرز موجود تھیں، مگر انہوں نے خاندان کو ترجیح دی۔ ان کے دو بچے ہیں، بیٹی کیندرا اور بیٹا جوش۔ امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں آباد میناکشی نے خود کو گھریلو زندگی اور بچوں کی پرورش کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
انہوں نے فلمی دنیا سے دوری کے باوجود اپنے فن سے رشتہ منقطع نہیں کیا۔ انہوں نے امریکہ میں ہندوستانی کلاسیکی رقص کی تعلیم دینا شروع کی اور نئی نسل کو اپنی ثقافتی روایت سے جوڑنے کا کام کیا۔ ان کے رقص کے ادارے میں مختلف نسلوں اور قومیتوں کے طلبہ تربیت حاصل کرتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب سینما گھروں کے بڑے بڑے پوسٹروں پر ان کی مسکراہٹ چھائی رہتی تھی۔ آج وہ روشنیوں اور کیمروں سے دور ضرور ہیں، مگر ’دامنی‘ کی بے خوف آواز، ’ہیرو‘ کی معصومیت اور کلاسیکی رقص کی دلکش جھلکیاں انہیں انڈین سنیما کے اتہاس میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

شیئر: