اے آئی گلاسز کو ’خواتین کے لیے خطرناک‘ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟
مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس سمارٹ چشمے جلد ہی مارکیٹ میں آنے والے ہیں، جس پر بعض اطراف کا تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی سے جڑی اشیا پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ سی نیٹ کا کہنا ہے کہ تحفظات کی وجہ خواتین کی سکیورٹی سے متعلق ہے کیونکہ یہ گلاسز لگانے کے بعد سامنے آنے والے شخص فوری طور پر پہچانا جا سکے گا اور اس کی مکمل پروفائل بھی دیکھی جا سکے گی۔
خواتین کے حقوق کے لیے، گھریلو تشدد اور ہراسانی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں نے اس نئی ٹیکنالوجی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد خواتین اور لڑکیوں کے لیے ہراسیت اور بدسلوکی کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
امریکہ کے اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا رواں برس اپنے سمارٹ چشمے میں چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیچر ابھی تیاری کے مراحل میں ہے اور اس میں ممکنہ طور پر ایک ایسا سسٹم شامل کیا جا سکتا ہے جو ایسے چہروں کی پروفائل دکھا سکے گا جو میٹا کے پلیٹ فارمز سے منسلک ہوں یا جن کا پروفائل فیس بک یا انسٹاگرام پر موجود ہو۔
خدشات کیا ہیں؟
خواتین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی نمایاں فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چہرہ شناسی سے لیس سمارٹ گلاسز ممکنہ طور پر مجرموں کو خواتین اور لڑکیوں کو تلاش کرنے، ان کی شناخت معلوم کرنے اور ان کا تعاقب کرنے میں آسانی فراہم کر سکتے ہیں۔
تنظیموں کے مطابق ایسے آلات کے ذریعے کسی فرد کی ذاتی معلومات تک اُس کی اجازت کے بغیر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے جو رازداری اور تحفظ دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
کمپنی کا موقف
میٹا کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اس فیچر سے متعلق مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ کسی بھی نئی سہولت کو متعارف کرانے سے پہلے محتاط اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔