امریکہ اور ایران پر مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ
مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات کا جمعرات سے دوبارہ آغاز ہو سکتا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسلام آباد میں پچھلے ہفتے ناکام ہونے والے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر خود کو میزبان کے طور پر پیش کیا، چین نے امن منصوبہ تجویز کیا، فرانس نے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں دوسری طرف سے کال آئی ہے۔ وہ بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ممکنہ مقام ہے کیونکہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر ’بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔‘
پاکستانی حکام نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات ایک جاری سفارتی عمل کا حصہ تھے، نہ کہ ایک وقتی کوشش اور اسلام آباد میں دوسرا دور تجویز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کو تجویز دی گئی ہے کہ ان کے وفود پاکستانی دارالحکومت واپس آئیں۔ ’کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں ہوئی، لیکن جمعے سے اتوار تک متوقع ہیں۔‘
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخوان نے ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ جنگ بندی کا تمام فریقین سختی سے احترام کریں۔‘
سپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ چین جنگ ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اسے سفارتی محاذ پر مزید کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بیجنگ کے دورے کے دوران کہا کہ ’مجھے بہت مشکل لگتا ہے کہ چین کے علاوہ کوئی اور ثالث اس صورتحال کو ایران اور آبنائے ہرمز میں حل کر سکے۔‘
چینی صدر شی جن پنگ نے منگل کو اپنا امن منصوبہ پیش کیا۔ اس میں پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری کا احترام، اور ترقی و سلامتی کے درمیان ہم آہنگی شامل ہے۔
