Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آپریشن غضب لِلحق‘ کے دوران اب تک 297 افغان طالبان ہلاک، 450 زخمی ہوئے: پاکستان

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن غضب لِلحق میں اب تک 297 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 450 زخمی ہوئے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ اس آپریشن کے دوران افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 18 قبضے میں لی گئیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے 135 ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کیں اور افغانستان کے 29 مقامات کو  فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل جمعے کو پاکستان کی فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس لڑائی کے دوران ’وطن کی خاطر اب تک 12 فوجی جوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہے جبکہ 27 جوان زخمی ہیں۔‘
 پاکستان شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ جھڑپوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’پاکستان شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘
جمعے کی شب کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے جب امریکی صدر سے پاکستان اور افغانستان کی جھڑپوں کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ سے کسی نے مداخلت کرنے کے لیے کہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’وہ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اُن کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔‘
’ان کے پاس ایک عظیم وزیراعظم ہے، ایک عظیم جرنیل ہے۔ یہ وہ دو لوگ ہیں جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں، اور میرے خیال میں پاکستان شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘
سنیچر اور اتوار کی درمیان رات پاکستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج  نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو اپنے ہاں پناہ دیتی ہے اور وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس سے انکار کرتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ حالیہ کارروائی افغان فورسز کی جانب سے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی افواج پر حملے کے بعد کی گئی جو اسلام آباد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا ردعمل تھا۔

 

شیئر: