Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آپریشن غضب لِلحق‘ کے دوران اب تک 331 افغان طالبان ہلاک: پاکستان

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن غضب لِلحق میں اب تک 331 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے سنیچر کی صبح ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ اس آپریشن کے دوران افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 22 قبضے میں لی گئیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے 163 ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کیں اور افغانستان کے 37 مقامات کو  فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل جمعے کو پاکستان کی فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس لڑائی کے دوران ’وطن کی خاطر اب تک 12 فوجی جوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہے جبکہ 27 جوان زخمی ہیں۔‘
 پاکستان شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ جھڑپوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’پاکستان شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘
جمعے کی شب کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے جب امریکی صدر سے پاکستان اور افغانستان کی جھڑپوں کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ سے کسی نے مداخلت کرنے کے لیے کہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’وہ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اُن کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔‘
’ان کے پاس ایک عظیم وزیراعظم ہے، ایک عظیم جرنیل ہے۔ یہ وہ دو لوگ ہیں جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں، اور میرے خیال میں پاکستان شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی انڈر سیکریٹری آف سٹیٹ برائے سیاسی امور ایلیسن ہو کر نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات چیت کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ یر لکھا ’ہم صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کی سینیئر ترین سفارت کار، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے گفتگو کے دوران ’پاکستان اور طالبان کے درمیان حالیہ تنازع میں ہونے والے جانی نقصان پر امریکی تعزیت‘ کا اظہار بھی کیا۔
ایلیسن ہوکر کے اس مختصر بیان میں لڑائی کے خاتمے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل برطانیہ نے ’کشیدگی میں کمی‘ پر زور دیا تھا جبکہ چین نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور ایران نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کی اپیل
قوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ انتونیو گوتریس ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد اور شہری آبادی پر اس کے اثرات پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’وہ دشمنی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔‘

سنیچر اور اتوار کی درمیان رات پاکستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج  نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو اپنے ہاں پناہ دیتی ہے اور وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس سے انکار کرتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ حالیہ کارروائی افغان فورسز کی جانب سے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی افواج پر حملے کے بعد کی گئی جو اسلام آباد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا ردعمل تھا۔

 

شیئر: