Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صرف 13 ڈالر میں 300 میل کی پرواز، دنیا کا پہلا مکمل الیکٹرک طیارہ آسمانوں پر

کلارک کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کرتے ہیں جہاں برقی طیارے رائیڈ شیئرنگ سروسز کی طرح استعمال ہوں گے۔ (فوٹو: اے بی سی نیوز)
ایک نیا مکمل الیکٹرک طیارہ جو اب آسمانوں میں اڑان بھر رہا ہے، دنیا بھر میں لوگوں اور سامان کی نقل و حمل کے طریقے کو بدل سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے نامہ نگار برائے ٹرانسپورٹیشن جیو بینیٹیز نے بدھ کے روز بیٹا ٹیکنالوجیز کے بیٹری سے چلنے والے طیارے میں کمپنی کے بانی اور سی ای او کائل کلارک کے ساتھ فضائی سفر کا تجربہ کیا۔
کلارک نے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’میں گزشتہ 20 سالوں سے لوگوں کو بتا رہا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی پرواز کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ یہ ہر چیز کو تبدیل کر دے گی۔‘
کمپنی کے مطابق، یہ برقی طیارہ تقریباً 50 منٹ میں صرف 13 ڈالر کی لاگت سے چارج ہو جاتا ہے اور صرف 15 سیکنڈ میں پرواز کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ جب طیارہ نیچے آتا ہے تو اس کی نیچے جانے کی قوت بیٹری کو دوبارہ چارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔
بیٹا ٹیکنالوجیز کے مطابق، یہ طیارہ ایک بار چارج ہونے پر 300 میل سے زیادہ سفر کر سکتا ہے، جس سے طبی ہنگامی نقل و حمل تیز تر ہو سکتی ہے اور یو پی ایس اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کی ترسیلات مزید تیز ہو سکتی ہیں۔
یوبر کی نئی الیکٹرک فضائی ٹیکسیاں بھی جلد آسمانوں میں نظر آ سکتی ہیں۔
کلارک نے کہا، ’یو پی ایس اور ایمیزون جیسے ادارے بہت زیادہ پروازیں کرتے ہیں اور پورے ملک میں اگلے دن سامان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ یہ کام کم لاگت میں کر سکیں تو ان کی خدمات کا معیار مزید بہتر ہو جائے گا۔‘
بیٹا ٹیکنالوجیز کے مطابق، ان کے طیارے کے دو مختلف ماڈل ہیں: ایک ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی طور پر اڑان بھرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ دوسرا روایتی رن وے سے پرواز کرتا ہے۔
پرواز کے دوران کلارک نے جیو بینیٹیز کو بتایا، ’اس ایک گھنٹے کی پرواز پر توانائی کی لاگت تقریباً 8 ڈالر آئے گی۔ اگر آپ اس کا موازنہ ایندھن سے چلنے والے طیارے سے کریں تو یہ تقریباً 40 گنا کم ہے۔‘
حفاظت بھی کمپنی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اگرچہ بظاہر طیارے میں ایک ہی انجن دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس میں دو موٹرز موجود ہیں جو پروپیلر کے پیچھے نصب ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے بیٹا ٹیکنالوجیز کے ایک طیارے کا تجربہ کیا تھا۔ (فوٹو: اے بی سی نیوز)

کلارک نے عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دکھایا کہ اگر ایک موٹر بند ہو جائے یا دونوں موٹرز کام کرنا چھوڑ دیں تب بھی طیارہ پرواز جاری رکھ سکتا ہے۔
ہوابازی کلارک خاندان کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ کلارک کی اہلیہ کیٹی کلارک بھی کمپنی میں کام کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے بچپن ہی سے طیاروں کے ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔
کیٹی کلارک نے اے بی سی نیوز کو بتایا، ’ویلا نے گاڑی چلانے سے پہلے ہی طیارہ اڑانا سیکھ لیا تھا۔ میرے تمام بچے گھر پر تعلیم حاصل کرتے تھے، اس لیے میرے لیے یہ مفت ریاضی اور مفت سائنس کی عملی تعلیم تھی۔ چاہے انہیں ہوابازی پسند آتی یا نہیں، وہ ایک اضافی فائدہ تھا۔‘
اس وقت کئی کمپنیاں برقی طیارے تیار کر رہی ہیں اور امید کر رہی ہیں کہ انہیں آئندہ سال امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) سے سرٹیفکیشن مل جائے گا۔
گزشتہ ہفتے امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے بیٹا ٹیکنالوجیز کے ایک طیارے کا تجربہ کیا اور اسے اس  قسم کی جدت قرار دیا جسے وہ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
بیٹا کے مطابق، کمپنی اپنے ورمونٹ کے کارخانے میں اس وقت روزانہ ایک طیارہ تیار کر سکتی ہے، اور ستمبر سے ملک بھر میں حتمی آزمائشی پروازوں کے لیے یہ طیارے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔
کلارک کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کرتے ہیں جہاں برقی طیارے رائیڈ شیئرنگ سروسز کی طرح استعمال ہوں گے، اور اگلے دس برسوں میں لوگ شہر کے مرکزی علاقوں تک آنے جانے کے لیے ان پر انحصار کر سکیں گے۔

شیئر: