ایلون مسک نے 2002 میں سپیس ایکس کی بنیاد اس بلند مقصد کے ساتھ رکھی کہ انسانوں کو مریخ تک لے جایا جائے اور وہاں آبادیاں قائم کی جائیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آج یہ راکٹ کمپنی ایک بہت بڑا کاروباری ادارہ بن چکی ہے۔ یہ ناسا کی اہم ٹھیکیدار اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی ہے.
سپیس ایکس نے ایلون مسک کے اس مصنوعی ذہانت والے سٹارٹ اَپ کو بھی اپنے اندر ضم کر لیا ہے جو اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا مالک ہے جسے پہلے ٹوئٹر کہا جاتا تھا۔
بدھ کو ایک ریگولیٹری فائلنگ میں کمپنی نے اعلان کیا کہ ’وہ تاریخ کی سب سے بڑی ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) کے لیے تیار ہے، جس کے ذریعے 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ہدف ہے، جبکہ اس کی مجموعی مالیت 1.77 کھرب ڈالر بتائی گئی ہے۔‘
امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کی فائلنگ کے مطابق کمپنی 555 ملین سے زائد حصص 135 ڈالر فی شیئر کے حساب سے فروخت کرے گی۔
مزید پڑھیں
-
سپیس ایکس سٹارشپ راکٹ اُڑان بھرنے کے چند منٹ بعد تباہNode ID: 886902
یہ پیش کش 12 جون سے بھی جلد شروع ہو سکتی ہے۔
خلائی صنعت میں برتری
جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے کاروباری ٹائیکون ایلون مسک نے 30 سال کی عمر میں سپیس ایکس کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے اس سے قبل اپنی ڈاٹ کام کمپنی زِپ 2 فروخت کی، پھر ایک آن لائن ادائیگیوں کی کمپنی بنائی جو بعد میں پے پال بن گئی اور بعد میں ای بے نے اسے خرید لیا۔
اس وقت ان کے پاس مناسب سرمایہ آچکا تھا، لیکن وہ اس بات سے مایوس تھے کہ ناسا کے پاس مریخ پر جانے کے لیے کوئی مشن موجود نہیں تھا۔

انہوں نے عوام میں خلائی سفر کے لیے دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش میں ایک منصوبہ بنایا کہ شیشے کے بند گرین ہاؤس میں بیج مریخ پر بھیجے جائیں اور وہاں پودے اُگائے جائیں، لیکن اسے مریخ تک بھیجنے کا کوئی عملی طریقہ نہ مل سکا۔
اسی وجہ سے انہوں نے اپنی راکٹ کمپنی قائم کی۔
ابتدائی سال ناکامیوں سے بھرپور تھے اور کمپنی کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ 2008 میں سپیس یکس کا فالکن 1 راکٹ بالآخر کامیابی سے خلا میں پہنچا۔
بعد میں کمپنی نے جزوی طور پر دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ تیار کیے اور ناسا سمیت کئی اداروں سے معاہدے حاصل کیے۔
فالکن 9 راکٹ کمپنی کا مرکزی نظام بن گیا اور اس نے سینکڑوں مشن انجام دیے۔
اس کے بعد کمپنی نے خلائی سٹیشن تک سامان پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا ڈریگن خلائی جہاز 2012 میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک پہنچا، اور بعد میں یہ پہلی نجی کمپنی بن گئی جس نے انسانوں کو خلا میں بھیجا۔
اب کمپنی کا بڑا منصوبہ سٹارشپ راکٹ ہے، جس کا مقصد ایک ایسا مکمل، قابلِ استعمال اور دوبارہ استعمال ہونے والا مدار میں جانے والا راکٹ بنانا ہے جو عملے اور سامان دونوں کو لے جا سکے۔
کمپنی نے حال ہی میں سٹارشپ کے تیسرے ماڈل کی آزمائشی پرواز بھی کی ہے جو بڑی حد تک کامیاب رہی۔
اگر یہ منصوبہ مشن پر جانے کے لیے تیار ہو گیا تو اسے خلا میں ایندھن بھرنے جیسے پیچیدہ اور اب تک غیر آزمودہ نظام کی ضرورت ہوگی۔
سپیس ایکس ناسا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سٹارشپ کا ایسا ورژن بنا رہی ہے جو انسانوں کو چاند پر اُتارنے کے نظام کے طور پر استعمال ہوگا۔
یہ ایلون مسک کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ مریخ کو آباد کرنا اب بھی سپیس ایکس کا بنیادی خواب ہے۔
بے خوف انداز
یہ کمپنی ڈیڈلائنز سے آگے بڑھنے سے نہیں گھبراتی، اور اس کے کئی سٹارشپ تجربات تباہ بھی ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود اس کی ’جلد ناکام ہو اور جلد سیکھو‘ کی پالیسی نے اسے دنیا کی سب سے بڑی خلائی لانچنگ سروس فراہم کرنے والی کمپنی بنا دیا ہے۔
لیکن ایک بڑے آئی پی او اور ناسا کے اہم معاہدوں کے ساتھ اب دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ خلائی ماہر جی سکاٹ ہبارڈ کے مطابق اب صورتِ حال بدل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ماضی کا بے خوف اور تیز رفتاری والا انداز اب اس قدر قابلِ قبول نہیں رہا۔‘
ان کے مطابق جب بات انسانوں کی جانوں کی ہو اور ناسا شامل ہو جائے تو غیر معمولی سائنسی احتیاط ضروری ہو جاتی ہے۔
ماہرین پہلے ہی خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ سٹارشپ ناسا کی ٹائم لائن کے مطابق تیار نہیں ہو سکے گا، اور کچھ افراد اس کے قابلِ عمل ہونے پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔
اسی وجہ سے ناسا نے گذشتہ سال یہ امکان بھی ظاہر کیا تھا کہ سپیس ایکس کے معاہدے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور جیف بیزوس کی بلیو اوریجن کو پہلے چاند پر لینڈنگ کا موقع دیا جائے، جس سے دونوں کمپنیوں میں ہلچل مچ گئی۔
لیکن بلیو اوریجن کو خود بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے نیو گلین راکٹ کے زمینی تجربے میں دھماکہ ہوا جس سے لانچنگ پلیٹ فارم کو نقصان پہنچا اور یہ منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔

ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2027 میں اپنے اوریون خلائی جہاز اور کم سے کم ایک مون لینڈر کے درمیان مدار میں ملاقات کروائی جائے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ سپیس ایکس یا بلیو اوریجن اس وقت تک تیار ہوں گے یا نہیں۔
سکاٹ ہبارڈ نے کہا کہ سپیس ایکس میں اعلیٰ درجے کے اور بہت قابل لوگ کام کر رہے ہیں، لیکن اب دباؤ بڑھ چکا ہے۔
ان کے مطابق اگر خلائی کاروبار میں خطرہ مول لیا جائے تو وہ سمجھ بوجھ اور ایسا خطرہ ہو جس پر قابو پایا جا سکے کیونکہ ’یہ کوئی بے وقوفانہ خطرہ نہیں ہو سکتا۔‘












