جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران سے معاہدہ اگلے ہفتے تک ہو سکتا ہے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے معاہدہ آئندہ ہفتے کے دوران طے پا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز ٹیلی فونک انٹرویو میں بتایا کہ ’صورتحال اچھی لگ رہی ہے، بہت اچھی لگ رہی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا، ’آج ایک چھوٹی سی رکاوٹ پیدا ہوئی تھی، لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا، میں نے اسے بہت جلد دور کر لیا۔‘
صدر کے مطابق یہ رکاوٹ اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ ایران، لبنان پر اسرائیلی حملوں سے ناراض تھا۔
انہوں نے کہا، ’میں نے حزب اللہ سے بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں، پھر میں نے بی بی (اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو) سے بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں، جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ’فوجی فتح سے بھی بہتر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ آپ ایک بہت بڑے ملک کے ساتھ معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔ دونوں جانب شدید دشمنی موجود ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’اس لیے یہ ان کے لیے بھی آسان نہیں اور ہمارے لیے بھی نہیں، لیکن ہم وہ حاصل کر رہے ہیں جو ہمیں درکار ہے۔‘
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کب مکمل اور منظور ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا، ’میرا خیال ہے کہ یہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ابھی انہوں نے اس پر حتمی اتفاق نہیں کیا کیونکہ ’ابھی چند نکات طے ہونا باقی ہیں۔‘
ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں، ٹرمپ
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’تیز رفتاری‘ سے جاری ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے اسی روز اعلان کیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث امریکہ کے ساتھ رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔
تاہم ایران نے ابھی تک اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں یا نہیں۔
