Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مدیحہ قریشی کی نئی کُک بک ’سعودی ذائقوں کا خوشگوار تعارف‘

پاکستان میں پیدا ہونے ، سعودی عرب میں پرورش پانے اور اب برطانیہ میں رہنے والی مدیحہ قریشی کہتی ہیں کہ ان کی پہلی کتاب ’دی ریڈ سی کُک بُک‘ ان کا سعودی عرب سے دوبارہ جُڑنے کا ذریعہ ہے۔
فوڈ رائٹر، ریسپی ڈویلپر اور کانٹینٹ کرئیٹر مدیحہ قریشی جن کے انسٹاگرام پر تین لاکھ سے زیادہ فالوؤرز ہیں، نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میں سعودی عرب کو اپنی ذات سے الگ نہیں کر سکتی۔ یہ میرے ساتھ ہر جگہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں میں نے پرورش پائی، جہاں میری یادیں بنی ہیں۔‘
برطانوی فوڈ رائٹرز ٹام پارکر بولز نے ’دی ریڈ سی کُک بک‘ کو سعودی عرب کے پکوان کا خوشگوار تعارف قرار دیا ہے۔
مدیحہ قریشی 1980 کی دہائی میں سعودی عرب اُس وقت آئیں جب وہ ایک کم عمر بچی تھیں۔ ان کے والد یانبُو اور جبیل میں رائل کمیشن کے پروجیکٹس پر کام کرتے تھے۔ انہوں نے غیرملکی خاندانوں کی کمیونٹی میں اپنا بچپن گزارا۔
مدیحہ قریشی بتاتی ہیں کہ ’ہم مغرب میں تنوع کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن سعودی عرب اپنی اصل میں بھی اتنا متنوع ہے۔ میں ہر شعبے اور دنیا کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان رہی ہوں۔‘

مدیحہ قریشی کو 2021 میں ’ماسٹر شیف یو کے‘ کے مقابلے میں شرکت کا موقع ملا (فوٹو: سپلائیڈ)

’دی ریڈ سی کُک بک‘ میں مدیحہ قریشی ایک ایسی سرزمین کے بارے میں لکھتی ہیں جہاں الائچی اور خشک لائم کی خوشبو تاریخی بازاروں کی فضا میں رچی بسی ہے، جہاں بحیرہ احمر کے ساحل پر ماہی گیر صبح سویرے گروپر اور ایمپرا فش پکڑتے ہیں اور جہاں خاندان شام تک کھانے کی میز پر بیٹھے رہتے ہیں اور پھر گپ شپ کے ساتھ کافی کا دور چلتا ہے۔ ؎
مدیحہ قریشی کہتی ہیں کہ سعودی کھانوں کو محغ ’عرب کھانوں‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ’مغرب میں ایک عام غلط فہمی ہے کہ یہ کھانا بے ذائقہ، سادہ اور بورنگ ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔‘
مدیحہ بتاتی ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران وہ اپنی ملازمت سے محروم ہو گئی تھیں لیکن 2021 میں انہیں ’ماسٹر شیف یو کے‘ کے مقابلے میں شرکت کا موقع ملا۔
اس مشہور شیف شو کے کوارٹر فائنلز میں شرکاء سے کہا گیا کہ وہ ایک ایسی ڈش بنائیں جس سے ان کی یادیں وابستہ ہوں۔

یہ چیلنج مدیحہ کو یانبُو کے ساحلوں اور بچپن کے اُن سنیک کی یاد دلا گیا جو ان کے والد گھر لے کر آیا کرتے تھے۔
جو چیز میرے ذہن میں آئی وہ متبّق تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں کچھ ایسا بناؤں جو کبھی برطانوی میڈیا میں نہیں دکھایا گیا۔
جب انہوں نے یہ ڈش تیار کی اور اس سے جُڑی اپنی یادیں شیئر کیں تو وہ اپنے جذبات چُھپا نہ سکیں اور کیمرے کی آنکھ نے یہ سب محفوظ کر لیا۔ ’جب یہ نشر ہوا، تو پورا ملک میرے ساتھ رویا، میرے ساتھ غمگین ہوا۔‘
مدیحہ قریشی نے محسوس کیا کہ سعودی کھانے کو کبھی مغربی پلیٹ فارم پر پیش نہیں کیا گیا اور یوں انہیں ایک ایسی کتاب لکھنے کا خیال آیا جس میں وہ کھانے کی ریسپی کے ساتھ روایتی کھانوں سے جُڑی کہانیاں بھی لوگوں تک پہنچا سکیں۔

 

شیئر: