Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: امن وامان کے باعث کئی شہروں میں مغرب کے بعد بازار سنسان، عید کی خریداری متاثر

بلوچستان کے مختلف شہروں میں حملوں کے بعد سکیورٹی بھی زیادہ سخت کردی گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں رواں برس امن و امان کی خراب صورتِ حال نے نہ صرف معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ عیدالفطر کی خریداری کی رونقیں بھی ماند پڑ گئی ہیں۔ 
مقامی تاجروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات، راستوں کی بندش اور شام کے بعد آمدورفت پر غیر رسمی پابندیوں کے باعث بیشتر شہروں میں بازار مغرب کے فوراً بعد سنسان ہو جاتے ہیں جس سے عید کی خریداری بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ماضی میں رمضان کے آخری دنوں میں ان علاقوں کے بازاروں میں مغرب کے بعد بھی رات گئے تک خاصا رش رہتا تھا۔ لوگ افطار اور تراویح کے بعد بڑی تعداد میں خریداری کے لیے نکلتے تھے۔ 
تاہم رواں سال بیشتر شہروں میں دُکانیں جلدی بند ہو جاتی ہیں اور بازاروں میں وہ گہما گہمی دکھائی نہیں دیتی جو عید سے قبل کے دنوں میں معمول ہوا کرتی تھی۔
مقامی افراد اس صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ 31 جنوری کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بیک وقت بلوچستان کے ایک درجن سے زائد شہروں میں کیے گئے حملوں کو قرار دیتے ہیں۔
ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے متعدد علاقوں میں سخت اقدامات کرتے ہوئے سرچ آپریشنز شروع کیے اور بعض شہروں میں رات کے اوقات میں نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا۔
31 جنوری کے حملوں میں کوئٹہ سے قریباً 150 کلومیٹر دُور نوشکی سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں شامل تھا جہاں عدالت، جیل اور تھانوں سمیت کئی سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو نقصان پہنچا۔ 
ان واقعات کے بعد شہر میں قریباً ایک ہفتے تک بازار بند رہے۔ بعد ازاں شہر میں مغرب کے بعد آمدورفت پر پابندیاں لگا دی گئیں جو ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود برقرار ہیں۔
نوشکی کے مقامی تاجروں کے مطابق شام چھ بجے کے بعد شہر میں عملاً لاک ڈاؤن جیسی صورت حال ہو جاتی ہے کیونکہ شہر کو دیہی علاقوں سے ملانے والی تمام سڑکیں اور قومی شاہراہ کو آمدروفت کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ 

بلوچ اکثریتی علاقوں میں عید کی خریداری متاثر ہوئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

شام چھ بجے کے بعد سفر کرنے والوں کو سکیورٹی اہلکار ناکوں پر روک لیتے ہیں اور صبح ہونے یا پھر گھنٹوں انتظار کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
انجمن تاجرانِ نوشکی کے صدر احمد جان مینگل کے مطابق کاروباری سرگرمیوں پر اس صورت حال کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 
‘زیادہ تر دُکان دار شام چھ بجے سے پہلے ہی دکانیں بند کر دیتے ہیں اور عید میں چند دن رہنے کے باوجود بازاروں میں خریدار کم نظر آتے ہیں۔‘
ان کے بقول نوشکی میں قریباً دو ہزار دُکانیں ہیں مگر شام چھ بجے کے بعد صرف چند ہی کھلی رہتی ہیں اور انہیں بھی پولیس بار بار آکر بند کرا دیتی ہے۔
احمد جان مینگل نے بتایا کہ ماضی میں رمضان کے آخری دنوں میں افطار اور تراویح کے بعد بازاروں میں رات گئے تک رش ہوتا تھا مگر اس سال صورتِ حال مختلف ہے، بازار شام ہوتے ہی ویران ہو جاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’رمضان تاجروں کے لیے سال کا اہم سیزن ہوتا ہے اور وہ پورا سال اس ماہ کا انتظار کرتے ہیں، تاہم اس بار اضافی آمدنی تو دُور، اخراجات بھی پُورے نہیں ہو رہے اور بیشتر تاجر خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
’اگر مغرب کے بعد کوئی دُکان کھولنے کی کوشش کرے تو پولیس آکر بند کرا دیتی ہے۔ تاجروں نے سکیورٹی حکام، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے کئی بار اپیل کی کہ عید کے دنوں میں کچھ رعایت دی جائے مگر اُن کی اپیل پر عمل نہیں کیا گیا۔‘

پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی وجہ سے آمدورفت پر پابندیاں لگائی گئی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مقامی افراد کے مطابق پہلے لوگ عید کی خریداری کے لیے کوئٹہ بھی جاتے تھے۔ وہ صبح جاتے اور رات کو واپس گھر پہنچ جاتے تھے۔ 
تاہم اب رات کے اوقات میں سفر کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ طویل سفر نہیں کرتے۔ اگر کسی کو کوئٹہ جانا پڑے تو پھر رات وہیں گزارنا پڑتی ہے اور اگلے دن واپس آنا پڑتا ہے۔
نوشکی کے رہائشی ظہور بلوچ (فرضی نام) نے بتایا کہ ’این 40 شاہراہ پر پہلے رات کو ہر وقت گاڑیاں نظر آتی تھیں کیونکہ یہ نہ صرف نوشکی کو کوئٹہ سے ملاتی ہے بلکہ ایران سرحد تک جانے والی اہم تجارتی شاہراہ ہے مگر اب شام چھ بجتے ہی نوشکی کے قریب قائم ناکوں پر ٹریفک روک دی جاتی ہے۔‘
’ایسی صورتِ حال میں ایمرجنسی میں سفر کرنے والوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کے بعد سفر کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے جسے حاصل کرنے میں بعض اوقات کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چند روز قبل اُن کے ایک رشتہ دار کے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی چونکہ نوشکی میں مناسب طبی سہولت موجود نہیں تھی اس لیے اسے کوئٹہ لے جانا پڑا، تاہم سفر کی اجازت حاصل کرنے میں قریباً دو گھنٹے لگ گئے۔‘

 بیشتر شہروں میں بازار مغرب کے فوراً بعد سنسان ہو جاتے ہیں (فائل فوٹو: عرب نیوز)

ظہور بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ امن وامان کی صورتِ حال زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی ہیں اور عید جیسے تہوار بھی اب پہلے جیسی خوشیوں سے خالی محسوس ہوتے ہیں۔‘
نوشکی پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اکثر حملے رات کے اوقات میں دیہی اور پہاڑی علاقوں سے آنے والے حملہ آوروں کی جانب سے ہوتے تھے جس سے آمدروفت پر پابندی لگائی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’حالات بہتر ہونے پر بتدریج ان پابندیوں میں نرمی لائی جا رہی ہے اور ہنگامی حالات میں سفر کرنے والوں کو نہیں روکا جا رہا۔‘
حملوں کے دوران نوشکی شہر میں قائم کئی بینک بھی متاثر ہوئے جن میں سے تین اب تک بند ہیں جن میں نیشنل بینک بھی شامل ہے۔ 
اس صورتِ حال کی وجہ سے نیشنل بینک کے صارفین، جن میں زیادہ تر سرکاری ملازمین، ضعیف پنشنرز اور بیوہ خواتین شامل ہیں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ انہیں رقوم نکلوانے کے لیے قریباً 150 کلومیٹر دُور کوئٹہ جانا پڑتا ہے۔
بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں صورتِ حال کچھ ایسی ہے۔ ایک مقامی تاجر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ سال اگست میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے کے بعد سے علاقے میں سکیورٹی اقدامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔

 کیچ اور گوادر میں صورتِ حال نسبتاً بہتر ہے اور وہاں خریداروں کا رش دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو:  اے اہف پی)

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ سات ماہ سے مغرب کے بعد بسیمہ بازار میں دُکانیں بند ہو جاتی ہیں اور پُورا بازار ویران ہو جاتا ہے جبکہ بسیمہ کو خاران سے ملانے والی سڑک سمیت کئی راستوں پر رات کے اوقات میں سفر کی اجازت نہیں۔‘
’فروری کے اوائل میں ایک اور حملے کے بعد شہر کے ایک حصے کو ریڈزون قرار دے دیا گیا جہاں نیشنل بینک سمیت چند سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اس علاقے میں بینک بھی بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مالی لین دین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بھی مغرب کے بعد بازار قریباً سنسان ہو جاتا ہے۔ ایک شہری محمد اشتیاق نے بتایا کہ شہر کے بیشتر چھوٹے داخلی اور خارجی راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک بڑا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی راستے پر دن کے وقت اور خاص طور پر شام کے اوقات میں ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے جس سے شہریوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے۔
صوبے کے ضلع مستونگ میں بھی امن و امان کی خراب صورتِ حال نے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ 
مستونگ کے ایک رہائشی اور ریٹائرڈ سرکاری ملازم نے بتایا کہ گذشتہ سال جون میں نیشنل بینک کی مقامی برانچ کو جَلا دیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ بند ہے۔ اس شاخ میں زیادہ تر سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے اکاؤنٹس تھے۔

’راہ چلتے افراد سے لُوٹ مار کی وجہ سے لوگ دن کے وقت خریداری کو ترجیح دیتے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ اب پنشن اور دیگر رقوم نکلوانے کے لیے لوگوں کو کوئٹہ جانا پڑتا ہے۔ زیادہ تر پنشنرز ضعیف ہیں۔ اگر کسی بیوہ خاتون کی پنشن 15 سے 20 ہزار روپے ہو تو اسے حاصل کرنے کے لیے تین سے چار ہزار روپے سفر پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
’اکتیس جنوری کے حملوں کے دوران مستونگ میں بھی بینکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد ایک نجی بینک کی برانچ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے بند ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ شہر میں موجود چند دیگر بینکوں کی اے ٹی ایم میں بھی اکثر رقم دستیاب نہیں ہوتی خاص طور پر رات کے اوقات میں۔
خاران میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بازار تو رات کے وقت بھی کھلا رہتا ہے مگر زیادہ تر دُکانیں بند ہو جاتی ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے علاوہ شہر میں چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایک مقامی تاجر محمد رفیق نے بتایا کہ گھروں اور دکانوں میں ڈکیتیوں کے ساتھ ساتھ راہ چلتے افراد سے لُوٹ مار کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے لوگ زیادہ تر دن کے وقت خریداری کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ رات کے وقت خریداروں کا رش کم ہوتا ہے۔
ان کے مطابق امن و امان کی خراب صورتِ حال نے کاروبار پر شدید منفی اثرات ڈالے ہیں اور رواں سال عید کے موقعے پر بھی بازاروں میں وہ رونق دکھائی نہیں دے رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔
تاہم بلوچستان کے کچھ علاقوں میں صورتِ حال نسبتاً مختلف ہے۔ ضلع کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز تُربت میں تاجروں کے مطابق بازاروں میں عید کی رونقیں برقرار ہیں۔ 
انجمن تاجرانِ مکران کے صدر اسحاق روشن نے بتایا کہ ضلع کیچ اور گوادر میں صورتِ حال نسبتاً بہتر ہے اور بازاروں میں رات کے وقت بھی خریداروں کا رش دیکھا جا سکتا ہے۔

شیئر: